حدیث بھی بروایت ابو ہریرہ لکھ دی ہے انا اولی الناس بابن مریم والانبیاء اولاد علات اور اسی کی تائید میں امام بخاری نے کتاب المغازی میں بذیل کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ ۶۴۰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور حدیث لکھی ہے۔
اورؔ منجملہ افادات امام بخاری کے جن کا ہمیں شکر کرنا چاہیئے یہ ہے کہ انہوں نے صرف اسی قدرثابت نہیں کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں بلکہ احادیث نبویہ کی رو سے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ جو شخص فوت ہوجائے پھر دنیا میں آ نہیں سکتا۔ چنانچہ بخاری کے صفحہ ۶۴۰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت کی گئی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے تو بعض آدمی یہ گمان کرتے تھے کہ آنحضرت فوت نہیں ہوئے اور بعض کہتے تھے کہ فوت ہوگئے۔ مگر پھردنیا میں آئیں گے۔ اس حالت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ کے گھر گئے اور دیکھاجو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں تب وہ چادر کاپردہ اُٹھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف جھکے اور چومااور کہا کہ میرے ماں باپ تیرے پر قربان مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ خدا تیرے پر دوموتیں جمع نہیں کرے گا۔ پھرلوگوں میں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فوت ہوجانا ظاہر کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہونے اور پھر دنیا میں نہ آنے کی تائید میں یہ آیت پڑھی 33 ۱ یعنی محمد اس سے زیادہ نہیںؔ کہ وہ رسول اللہ ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے گذرچکے ہیں۔ یاد رہے کہ من قبلہ الرسل کا الف لام استغراق کا ہے جو رسولوں کی جمع افراد گذشتہ پر محیط ہے اور اگرایسا نہ ہو تو پھر دلیل ناقص رہ جاتی ہے کیونکہ اگرایک فرد بھی باہر رہ جائے تو وہ پھر وہ استدلال جو مدعاقرآن کریم کا ہے اس آیت سے پیدانہیں ہو سکتا۔ اس آیت کے پیش کرنے سے حضرت ابو بکر صدیق نے اِس بات کا ثبوت دیاکہ کوئی نبی ایسا نہیں گذراکہ جو فوت نہ ہوا ہو اور نیز اس بات کا ثبوت دیا کہ جو فوت ہوجائے پھر دنیا میں کبھی نہیں آتا۔ کیونکہ لغت عرب