ظاہر کرنا ہے کہ اس آیت کی یہی تفسیر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پر وارد کر کے آپ فرمائی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اس طرز کو امام بخاری نے اختیار کر کے صرف اپنا ہی مذہب ظاہرنہیں کیا بلکہ یہ بھی ظاہر کردیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت فلمّا توفّیتنی کے یہی معنی سمجھتے تھے تب ہی تو انہیں الفاظ فلمّا توفّیتنی کو بغیر کسی تبدیل وتغییر کے اپنی نسبت استعمال کرلیا۔ پھر امام صاحب نے اسی مقام میں ایک اور کمال کیا ہے کہ اس معنی کے زیادہ پختہ کرنے کے لئے اسی صفحہ ۶۶۵ میں آیت یاعیسٰی انی متوفیک *کے بحوالہ ابن عباس کے اسی کے مطابق تفسیر کی ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں وقال ابن عباس متوفّیک مُمیتک (دیکھو وہی صفحہ ۶۶۵ بخاری)یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ یہ جو آیت قرآن کریم ہے کہ یاعیسٰی انّی متوفّیک اس کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسےٰ میں تجھے وفات دُوں گا۔ سو امام بخاری صاحب ابن عباس کا قول بطور تائید کے لائے ہیں تا معلوم ہو کہ صحابہ کا بھی یہی مذہب تھا کہ مسیح ابن مریم فوت ہوگیاہے۔ اور پھر امام بخاری نے ایک اور کمال کیا ہے کہ اپنی صحیح کے صفحہ ۵۳۱ میں مناقب ابن عباس میںؔ لکھا ہے کہ خود ابن عباس سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اپنے سینہ* سے لگا یا اوردعا کی کہ یا الٰہی اس کو حکمت بخش اس کو علم قرآن بخش چونکہ دُعا نبی کریم کی مستجاب ہے اس لئے ابن عباس کا یہ بیان کہ توفّی عیسٰی جو قرآن کریم میں آیا ہے اما تت عیسٰی اس سے مراد ہے یعنی عیسیٰ کی۱؂ وفات دینا۔ یہ معنی آیت کریمہ کے جو ابن عباس نے کئے ہیں اس وجہ سے بھی قابل قبول ہیں کہ ابن عباس کے حق میں علم قرآن کی دعا مستجاب ہوچکی ہے۔ پھر امام بخاری نے اسی آیت فلمّا توفّیتنی کو کتاب الانبیاء صفحہ ۴۷۳ اور پھرصفحہ ۴۹۰ میں انہیں معنوں کے ظاہر کرنیکی غرض سے ذکر کیا ہے اور ظاہر کیا ہے کہ اس قصّہ کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسیح ابن مریم سے ایک مشابہت ہے چنانچہ صفحہ ۴۸۹ میں یہ * فٹ نوٹ: اس آیت کا حاشیہ ایڈیشن اوّل کے صفحہ ۹۲۲ اور اس ایڈیشن کے صفحہ ۶۰۶ پر ملاحظہ فرماویں۔