لائے جائیں گے تب میں کہوں گا کہ اے میرے رب یہ تو میرے اصحاب ہیں تب کہاجائے گا کہ تجھے اُن کاموں کی خبر نہیں جو تیرے پیچھے اِن لوگوں نے کئے۔ سو اُس وقت میں وہی بات کہوں گا جو ایک نیک بندہ نے کہی تھی یعنی مسیح ابن مریم نے۔ جب کہ اُسکو پوچھا گیا تھا کہ کیا یہ تو نے تعلیم دی تھی کہ مجھے اورمیری ماں کو خدا کر کے ماننا۔ اور وہ بات (جو میں ابن مریم کی طرح کہوں گا) یہ ہے کہ میں جب تک اُن میں تھا اُن پر گواہ تھا پھر جب تُو نے مجھے وفات دیدی تو اُس وقت تُو ہی اُن کانگہبان اور محافظ اور نگران تھا۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قصہ اور مسیح ابن مریم کے قصہ کو ایک ہی رنگ کا قصہ قرار دیکر وہی لفظ فلمّا توفّیتنی کا اپنے حق میں استعمال کیا ہے جس سے صاف سمجھاجاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فلمّا توفّیتنی سے وفات ہی مراد لی ہے۔ کیونکہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ آنحضرت صلعم فوتؔ ہوگئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آنحضرت کی مزار شریف موجود ہے۔ پس جبکہ فلمّا توفیتنی کی شرح اور تفسیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت وفات پانا ہے ثابت ہوا۔ اور وہی لفظ حضرت مسیح کے مُنہ سے نکلا تھا اورکھلے طورپر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ جن الفاظ کو مسیح ابن مریم نے استعمال کیا تھا وہی الفاظ مَیں استعمال کرونگا پس اس سے بکلی منکشف ہوگیا کہ مسیح ابن مریم بھی وفات پاگیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پاگئے اوردونوں برابر طور پر اثر آیت فلمّا توفّیتنی سے متاثر ہیں۔ اِسی وجہ سے امام بخاری اس آیت فلمّا توفّیتنی کو قصدًا کتاب التفسیر میں لایا تا وہ مسیح ابن مریم کی نسبت اپنے مذہب کو ظاہر کرے کہ حقیقت میں وہ اس کے نزدیک فوت ہوگیا ہے۔ یہ مقام سوچنے اور غورکرنے کا ہے کہ امام بخاری آیت فلمّا توفّیتنی کو کتاب التفسیر میں کیوں لایا۔پس ادنیٰ سوچ سے صاف ظاہرہوگا کہ جیسا کہ امام بخاری کی عادت ہے اس کا منشاء یہ تھا کہ آیت فلمّا توفّیتنی کے حقیقی اور واقعی معنی وہی ہیں جن کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایاہے۔ سو اس کا مدعا اس بات کاؔ