اس کے ذمہ ہوگا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ سے نکلاہو۔ اور بجُز موت اور قبض روح کے اس کے کوئی اور معنے ہوں۔ اورامام محمد اسماعیل بخاری نے اس جگہ اپنی صحیح میں ایک لطیف نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے جس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم سات ہزار مرتبہ تَوَفِّی کالفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ سے بعثت کے بعد اخیر عمر تک نکلاہے۔ اورہر یک لفظ تَوَفِّی کے معنے قبض روح اور موت تھی۔ سو یہ نکتہ بخاری کا منجملہ اُن نکات کے ہے جن سے حق کے طالبوں کو امام بخاری کا مشکور وممنون ہونا چاہیئے۔ اورؔ منجملہ افادات امام بخاری کے جس کا ہمیں شکر کرنا چاہیئے ایک یہ ہے کہ انہوں نے مسیح ابن مریم کی وفات کے بارہ میں ایک قطعی فیصلہ ایسا دے دیا ہے جس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح کے کئی حصوں میں سے جن کانام اُس نے خاص خاص غرضوں کی طرف منسوب کر کے کتاب رکھا ہے۔ ایک حصہ کو کتاب التفسیر کے نام سے نامزد کیا ہے۔ کیونکہ اس حصہ کے لکھنے سے اصل غرض یہ ہے کہ جن آیات قرآن کریم کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ تفسیر وتشریح کی ہے یا اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے اُن آیات کی بحوالہ قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تفسیرکر دی جائے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ اسی غرض سے آیۂ کریمہ 33 ۱؂ کو کتاب التفسیر میں لایا ہے۔ اور اس ایراد سے اُس کا منشاء یہ ہے کہ تا لوگوں پر ظاہر کرے کہ تَوفیتنی کے لفظ کی صحیح تفسیر وہی ہے۔جس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ فرماتے ہیں یعنی مار دیا اور وفات دے دی اورحدیث یہ ہے عن ابن عباسٍ انہ‘ یُجآء برجالٍ من امتی فیؤخذبھم ذات الشمال فاقول یا رب اصیحاؔ بی فیُقال انک لا تدری ما احدثوا بعدک فاقول کماقال العبد الصالح وکنت علیھم شھیدًا ما دمتُ فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم۔صفحہ ۶۶۵بخاری ۶۹۳ بخاری ۔ یعنی قیامت کے دن میں بعض لوگ میری اُمت میں سے آگ کی طرف