ذوی الروح کی طرف منسوب کرکے کن کن معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ آیا یہ لفظ اس وقت اُن کے روز مرہ محاورات میں کئی معنوں پر استعمال ہوتا تھا یا صرف ایک ہی معنے قبض روح اور موت کے لئے مستعمل تھا۔ سو اس تحقیقات کے لئے مجھے بڑی محنت کرنی پڑی اور اِن تمام کتابوں صحیح بخاری۔ صحیح مسلم۔ ترمذی۔ ابن ماجہ۔ ابوداؤد۔ نسائی۔دارمی۔ موطا ۔ شرح السنہ وغیرہ وغیرہ کا صفحہ صفحہ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ان تمام کتابوں میں جو داخل مشکٰوۃ ہیں تین سو چھیالیس مرتبہ مختلف مقامات میں توفی کا لفظ آیا ہے اور ممکن ہے کہ میرے شمار کرنے میں بعض توفی کے لفظ رہ بھی گئے ہوں لیکن پڑھنے اور زیر نظر آجانے سے ایک بھی لفظ باہر نہیں رہا۔ اور جس قدر وہ الفاظ توفی کے ان کتابوں میں آئے ہیں۔ خواہ وہ ایسا لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ سے نکلا ہے یاایساہے جوکسی صحابی نے مُنہ سے نکالاہے۔ تمام جگہ وہ الفاظ موت اور قبض روح کے معنے میں ہی آئے ہیں۔ اور چونکہ میں نے ان کتابوں کو بڑی کوشش اورجانکاہی سے سطر سطر پر نظر ڈال کردیکھ لیا ہے۔ اس لئے میں دعویٰ سے اور شرط کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہر یک جگہ جو تَوَفِّی کا لفظ ان کتابوں کی احادیث میں آیا ہے اس کے بجُز موت اور قبض روح کے اور کوئی معنے نہیں۔ اوران کتابوں سے بطور استقراء کے ثابت ہوتا ہے کہ بعد بعثت اخیر عمر تک جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نیتَوَفِّی کا لفظ بغیر معنی موت اورقبض روح کے کسی دوسرے معنیؔ کے لئے ہرگز استعمال نہیں کیا اور نہ کبھی دوسرے معنی کالفظ زبان مبارک پر جاری ہؤا۔اور کچھ شک نہیں کہ استقراء بھی ادلّۂ یقینیہ میں سے ہے۔ بلکہ جس قدر حقائق کے ثابت کرنے کے لئے استقراء سے مدد ملی ہے اور کسی طریق سے مددنہیں ملی۔ مثلًا ہمارے ان یقینیات کی بناء جو عمومًا تمام انسانوں کی ایک زبان ہوتی ہے اور دوآنکھ اورعمر انسان کی عمومًا اس حد سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ اوراناج کی قسموں میں سے چنا اس انداز کا ہوتاہے اور گیہوں کا دانہ اس اندازکا۔یہ سب یقینیات استقراء سے معلوم ہوئے ہیں۔ پس جو شخص اس استقراء کا انکار کرے تو ایسا کوئی لفظتَوَفِّی کا پیش کرنا