اب لیجئے نمونہ کے طور پر کسی قدر بخاری کے دلائل پیش کرتا ہوں اگر کچھ منکر انہ جوش ہے تو ردّ کر کے دکھلاویں۔ اوراگر سعادت ہے تو قبول کرلیں۔ وَ طُوبٰی لِلسُّعَدَآءِ۔
اِفَادَاتُ الْبُخَارِیْ
یہ عاجز پہلے اس سے اسی رسالہ میں بیان کر چکا ہے کہ عموم محاورہ قرآن شریف کا توفّی کے لفظ کے استعمال میں یہی واقعہ ہوا ہے کہ وہ تمام مقامات میں اوّل سے آخر تک ہرایک جگہ جوتَوَفِّی کا لفظ آیا ہے اس کو موت اور قبض روح کے معنے میں لاتا ہے اور جب عرب کے قدیم وجدید اشعار وقصائد ونظم ونثر کاجہاں تک ممکن تھا تتبّع کیاگیا اور عمیق تحقیقات سے دیکھا گیا تو یہ ثابت ہوا کہ جہاں جہاں تَوَفِّی کے لفظ کا ذوی الروح سے یعنی انسانوں سے علاقہ ہے اور فاعل اللہ جَلَّشَانُہٗ کو ٹھہرایا گیا ہے اِن تمام مقامات میں تَوَفِّی کے معنے موتؔ وقبض روح کے کئے گئے ہیں۔اور اشعار قدیمہ وجدیدہ عرب میں اور ایسا ہی اُن کی نثر میں بھی ایک بھی لفظ توفی کا ایسا نہیں ملے گا جو ذوی الروح میں مستعمل ہو اور جس کافاعل لفظًا یا معنًا خدائے تعالیٰ ٹھہرایا گیا ہو۔ یعنی فعل عبد کا قرار نہ دیا گیا ہو اور محض خدائے تعالیٰ کا فعل سمجھا گیا ہو اور پھراس کے معنے بجز قبض روح کے اور مراد رکھے گئے ہوں۔ لغات کی کتابوں قاموس۔ صحاح۔ صراحؔ وغیرہ پر نظر ڈالنے والے بھی اس بات کو جانتے ہیں۔ کہ ضرب المثل کے طور پر بھی کوئی فقرہ عرب کے محاورات کا ایسا نہیں ملا جس میں توفی کے لفظ کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے اور ذوی الروح کے بارہ میں استعمال میں لاکر پھر اس کے اور بھی معنے کئے ہوں۔بلکہ برابر ہر جگہ یہی معنے موت اورقبض روح کے کئے گئے ہیں اورکسی دوسرے احتمال کا ایک ذرہ راہ کُھلا نہیں رکھا۔ پھر بعد اس کے اِس عاجز نے حدیثوں کی طرف رجوع کیا تا معلوم ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ اورخود آنحضرت صلعم اس لفظ تَوَفِّی کو