اب حضرت سمجھ کر اور سوچ کر جواب دیں کہ یہ عبارتیں میرے حق میں آپ ہی کی ہیں یا کسی اور کی۔ اور یقینًا سمجھیں کہ آپ کی دعا کے موافق سب سے زیادہ خدائے تعالیٰ کا میرے پر رحم ہے اور یاد رکھیں کہ وہ ہرگز مجھے ضائع نہ کرے گا۔ آپ کی قسمت میں لغزش تھی سو وہ وقوع میں آگئی اور جو پیالہ ابتدا سے آپ کے لئے مقدر تھا آپ کو وہ پینا پڑا۔ کیا آپ کو میں نے اِن سب باتوں سے پہلے خبر نہیں دی تھی کہ آپ کے لئے مقدّر ہے کہ آپ مخالفت پر کھڑے ہوجائیں گے اور صدق اور راستی کو چھوڑ دیں گے۔ سخت بد قسمت وہ انسان ہے جو راستباز کومکّار سمجھے۔ نہایت بدنصیب وہ شخص ہے کہ جو صدیق کو کذاب خیال کرے۔
آپ اپنے اشتہار کے اخیر میں پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گویا میں بخاری اور مسلم سے منکر ہوں۔ اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اشاعۃ السنۃ میںؔ بخوبی ظاہر کیا جائے گا۔ سومیری طرف سے گذارش ہے کہ یوں تو مجھے اور ہر یک سمجھدا ر کو یہی امید ہے کہ آپ اسی طرح دفع وقت کے لئے زائد اور بے تعلق باتوں میں اپنے پرچہ اشاعۃ السنۃ کو سیاہ کرتے رہیں گے اور اصل بحث کی طرف ہرگز نہ آئیں گے۔ لیکن میرے پر یہ بہتان کھڑا کرنا کہ گویا میں صحیحین کا منکر ہوں آپ کے لئے کچھ بھی مفید نہیں ہوگا۔ آپ ذرہ غور کریں کہ کیا کوئی عقلمند ایسی کتابوں سے منکر ہوسکتاہے جو اس کے دعویٰ کی اوّل درجہ پر مؤید اور حامی ہیں۔ ایسا تو کوئی نادان بھی نہیں کر سکتا۔ اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کاقائل نہ ہوتا تو میں اپنی تائیددعویٰ میں کیوں بار بار اُن کو پیش کرتا۔ چنانچہ اسی رسالہ ازالہ اوہام میں بہت سی حدیثیں صحیح مسلم کی اپنے تائید دعویٰ میں پیش کرچکاہوں۔ہاں بخاری میں سے میں نے کم لکھا ہے۔ سو اس جگہ آپ کی خاطر کچھ اور بھی لکھ دیتا ہوں تا آپ پر واضح ہو کہ بخار ی بھی اس عاجز کی حامی اور ناصر ہے۔ اور اگر آپ ہزار جان کنی کریں۔ بخاری کو بھی مؤید مطلب ہرگز نہ پائیں گے۔ بلکہ قرآن کریم کی طرح وہ بھی اس عاجز کے مدعا اور اور دعویٰ پر کامل دلائل پیش کرتی ہے۔ حضرت یہی تو میرے گواہ ہیں جنؔ سے میرا دعویٰ ثابت ہوتا ہے ان سے اگر انکار کروں تو کہاں جاؤں۔