سے چاہیں مجھے ذبح کر دیں۔ لیکن آپ نے اس کے جواب میں بھی دم نہ مارا۔ اگر آپ کو بھی سچی خوابیں آتی ہیں اضغاثِ احلام نہیں اور اعتماد کے لائق ہیں تو میرے مقابل پر آپ کیوں چُپ رہے کیا آپ کے دروغ بے فروغ پر اس سے زیادہ کوئی اور دلیل ہوگی۔ اور میں تو اب بھی حاضرہوں۔ میدان میں کھڑ ا ہوں۔ یقینًا یاد رکھیں کہ وہ نورجو آسمان سے اُتراہے آپ کی مُنہ کی پھونکوں سے بُجھ نہیں سکتا۔ آپ اپنے مُنہ کی فکر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ پھونکیں مارتے مارتے ایک شعلہ اُٹھے اور آپ کے مُنہ کی مسخی صورت بنا دے۔ من عادیٰ کی حدیث آپ کو یاد نہیں جس کو ارادت کی راہ سے میری طرف لکھا کرتے تھے۔ ابؔ آپ نے مجھے مفتری بنایا۔کاذب قرار دیا۔مکّار نا م رکھا۔ دجّال کے اسم سے موسوم کیا۔ مگر اپنے ہی ریویو کی وہ عبارتیں آپ کو یاد نہ رہیں جو آپ براہین احمدیہ کے ریویو نمبر۶ جلدسات۷ میں لکھ چکے ہیں۔ چنانچہ آپ بغرض تعریف و توصیف کتاب موصوف کے صفحہ ۲۸۴ میں لکھتے ہیں۔ مؤلف براہین احمدیہ کے حالات وخیالات سے جس قدرہم واقف ہیں ہمارے معاصرین ایسے واقف کم نکلیں گے۔ مؤلف صاحب ہمارے ہموطن بلکہ اوائل عمر کے ہمارے ہم مکتب ہیں اس زمانہ سے آج تک خط وکتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری ہے۔( ص۲۸۴) مؤلف براہین احمدیہ مخالف وموافق کے تجربہ اور مشاہدہ کی رو سے واللّٰہ حسیبہ شریعت محمد یہ پر قائم اور پرہیز گار و صداقت شعار ہیں (ص۱۶۹)کتاب براہین احمدیہ (یعنی تالیف اس عاجز کی ) ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔ اور اس کا مؤلف اسلام کی مالی وجانی وقلمی ولسانی وحالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلاہے جس کی نظیر پہلی کتابوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ اے خدا اپنے طالبوں کے رہنما اِن پر اِن کی ذات سے اِ ن کے ما باپ سے تمام جہان کےؔ مشفقوں سے زیادہ رحم کر اور اس کتاب کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالدے اور اس کی برکات سے مالامال کر دے اور اس خاکسار شرمسار گنہگار کو بھی اپنے فیوض و انعامات اور اس کتاب کی اخص برکات سے فیضیاب کر۔ آمین و للارض من کاس الکرام نصیب صفحہ ۳۴۸۔