تو میری صداقت یا عدم صداقت کا امتحان آسان ہے۔ صرف بے ہودہ خوابوں سے میرے پر کوئی الزام نہیں آسکتا اگر فرض کے طور پر مولوی صاحب کی خوابیں میری طرف منسوب کی جائیں تب بھی ظاہر ہے کہ ہر یک دشمن اپنی دشمنی کے جوش میں اپنے مخالف کو خواب کی حالت میں کبھی سانپ کی شکل میں دیکھتا ہے اور کبھی کسی اور درندہ کی شکل میں۔ او ریہ قانون قدرت ہے جو اس پر طاری ہوتاہے۔ممکن ہے کہ ایک اُس کا دشمن اس کو سانپ کی شکل میں نظر آوے یا کسی درندہ وغیرہ کیؔ شکل میں۔ کیونکہ عداوت کی حالت میں ایسی تمثیلات خود طبیعت عدوّانہ اپنے جوش سے پیدا کرلیتی ہے۔ یہ نہیں کہ اس مقدس کی اصل شکل یہی ہوتی ہے۔ بعض اوقات حیوانی شکل قابل اعتراض بھی نہیں ہوتے۔ حضرت مسیح بعض پہلے نبیوں کو برّہ کی شکل پر نظر آئے اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو گائیوں کی شکل پر دیکھا اور یہ بات یعنی یہ جو میں نے ابھی بیان کیاہے کہ میری صداقت یا عدم صداقت کا امتحان آسان ہے اس کی زیادہ تفصیل یہ ہے کہ میرا تو خدا تعالیٰ کے اعلام وافہام سے یہ دعویٰ ہے کہ اگر دنیا کے تمام لوگ ایک طرف ہوں اور ایک طرف یہ عاجز ہو اور آسمانی امور کے انکشاف کے لئے ایک دوسرے کے قرب اور وجاہت عند اللہ کا امتحان کریں تو مَیں حلفًا کہتا ہوں کہ مجھے پور ایقین ہے کہ میں ہی غالب آؤں گا۔ خداوند علیم وحکیم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج تک صدہا نشان آسمانی میرے پر ظاہر ہو چکے ہیں اور بہت سے لوگ ان نشانوں کے دیکھنے والے موجود ہیں۔ میں نے ۳۱جولائی ۱۸۹۱ ء کے خاتمہ مضمون میں عام طور پر سُنا دیا تھا کہ میرے نشانوں کے دیکھنے والے اسی مجلس میں موجودہیں۔اگرؔ چاہوتو حلفًا اُن سے تصدیق کرا لو مگر آپ نے دم نہ مارا۔ پھر میں نے آواز بلند سے تین سو آدمی کی مجلس میں جن میں بعض عیسائی صاحبان اور ایڈیٹر صاحب پرچہ نور افشاں بھی موجود تھے یہ بھی سُنا دیا تھا کہ مولوی صاحب کو اگر اپنے اہل باطن ہونے کاگمان ہے تو چالیس دن تک میرے ساتھ مقابلہ کے طور پر خدائے تعالیٰ کی جناب میں توجہ کریں اگر میں آسمانی امور کے انکشاف اور نشانوں کے ظہور میں مولوی صاحب پر غالب نہ آیا تو جس ہتھیار