بات ہے کہ ایک نے میرے پاس بیان کیا کہ میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ نعوذ باللہ نابینا تھے۔ میں نے کہا کہ تُو ابراہیم کی سُنّت کامنکر اور اس کے دیکھنے سے نابینا ہے۔ ایسا ہی ایک ہندو بڈھے نے بیان کیا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح کو میں نے مجذوم دیکھاہے۔ میں نے اس کی تعبیرؔ کی کہ تیری بد دینی ناقابل علاج ہے تو کسی عیسیٰ دم سے اچھا نہیں ہوگا۔ ایک نے میرے پاس بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ نیلا تہ بند باندھا ہوا ہے اور باقی بدن سے ننگے ہیں اوردال روٹی کھا رہے ہیں میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ دیکھنے والے کو غم اور فقر وفاقہ آئے گا اور اُس کا کوئی دستگیر نہیں ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایک مرتبہ میرے اُستاد مرحوم مولوی فضل احمد صاحب نے میرے پاس بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی کوٹھڑی میں اسیروں کی طرح بیٹھے ہیں جس میں آگ اور بہت سا دھوأں ہے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ گردا گرد اس کوٹھڑی کے پہرہ داروں کی طرح عیسائی کھڑے ہیں۔ اور مولوی صاحب بہت متوحش تھے کہ اس کی کیا تعبیر ہے۔ تب خداتعالیٰ نے فی الفور میرے دل پر القاء کیا کہ یہ سب دیکھنے والے کا حال ہے جو اس پر ظاہر کیا گیا۔ وہ بے ایمان ہو کر مرے گا اور آخر جہنم اُس کا ٹھکانہ ہوگا۔ اور عیسائیوں میں مل جائے گا۔ مولوی صاحب اس تعبیر کو سنتے ہی باغ باغ ہو گئے اور مارے خوشی کے چہرہ روشن ہوگیا۔ اور فرمانے لگے کہ یہ خواب پوری ہوگئی اور تھوڑا عرصہ ہوا کہ وہ شخصؔ اس خواب کے دیکھنے کے بعد عیسائی ہو گیا۔* غرض اس بات میں مَیں صاحب تجربہ ہوں۔ مولوی صاحب کو چاہیئے کہ ڈریں اور توبہ کریں کہ اُن کے آثار اچھے نظرنہیں آتے۔ یہ اُن کی ساری خوابیں اُن کی پہلی خواب کی مؤید ہیں۔ رہا یہ عاجز
نوٹ رسالہ کامل التعبیر کے صفحہ ۲۶ میں لکھا ہے کہ اگر کسے بیند کہ اندامے از اندا مہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کم بود آں نقصان نقصان دین بینند ہ باشد ۔ ابن سیرین رحمہ اللہ گوید کہ اگر کسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را ناقص بیندآں نقصان بہ بینندہ باز گردد۔ (دیکھو رسالہ کامل التعبیر ص۲۶ ) منہ