مان لیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک الفاظ سے پائے جاتے ہیں جن کے مطابق پہلے حضرت مسیح یوحنّا نبی کے بارے میں بیان فرماچکے ہیں تو ان تمام پُر تکلف مشکلات سے مخلصیپاجائیں گے نہ حضرت مسیح کی روح کو بہشت سے نکالنے کی حاجت پڑے گی اور نہ اس مقدس نبی کی نبوت کا خلع تجویز کرنا پڑے گا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہجو ملیح کے مرتکب ہوں گے اور نہ احکام قرآنی کے منسوخ ہونے کا اقرار کیا جائے گا۔ شاید آخری عذر ہمارے بھائیوں کا یہ ہو گا کہ بعض الفاظ جو صحیح حدیثوں میں حضرت مسیح کی علامات میں بیان کئے گئے ہیں ان کی تطبیق کیونکر کریں۔مثلاً لکھاہے کہ مسیح جب آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور جزیہ کو اٹھا دے گا اور خنزیروںکو قتل کر دے گا اور اس وقت آئے گا کہ جب یہودیت اور عیسائیت کی بد خصلتیں مسلمانوں میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ مَیں کہتا ہوں کہ صلیب کے توڑنے سے مراد کوئی ظاہری جنگ نہیں بلکہ روحانی طور پر صلیبی مذہب کا توڑ دینا اور اُس کا بُطلان ثابت کر کے دکھا دینا مراد ہے جزیہ اٹھا دینے کی مراد خود ظاہر ہے جس سے یہ اشارہ ہے کہ ان دنوں میں دل خود بخود سچائی اور حق کی طرف کھینچے جائیں گے کسی لڑائی کی حاجت نہیں ہو گیخود بخود ایسی ہوا چلے گی کہ جوق در جوق اور فوج در فوج لوگ دین اسلام میں داخل ہوتے جائیں گے پھر جب دین اسلام میں داخل ہونے کا دروازہ کھل جائے گا اور ایک عالم کا عالم اس دین کو قبول کر لے گا تو پھر جزیہ کس سے لیا جائے گا مگر یہ سب کچھ ایک دفعہ واقع نہیں ہو گاہاں ابھی سے اس کی بنا ڈالی جائے گی اور خنزیروں سے مراد وہ لوگ ہیں جن میں خنزیروں کی عادتیں ہیں وہ اس روز حجت اور دلیل سے مغلوب کئے جائیں گے اور دلائل بَیَّنَہ کی تلوار انھیں قتل کرے گی نہ یہ کہ ایک پاک نبی جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا۔ اے میری پیاری قوم! یہ سب استعارے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے فہم دیا گیا ہے وہ نہ صرف آسانی سے بلکہ ایک قسم کے ذوق سے اُن کو سمجھ جائیں گے۔ ایسے