خالی نہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ دال میں کالاہے۔ اور ضرور آپ نے اس قسم کی خواب دیکھی ہے گو اس میں ٹانگ خشک ہو یا ہاتھ خشک ہو یا اور امور زائدہ ساتھ لگے ہوئے ہوں۔حضرت آپ نے یہ خواب ضرور دیکھی ہے آپ کایہ پہلو دار فقرہ ہی دلالت کر رہا ہے کہ ضرور آپ نے ایسی خواب دیکھی ہے۔ بھلا ذرہ قسم تو کھاویں کہ ہم نے کچھ نہیں دیکھا اور میں پیشگوئی کرتا ہوں کہ آپ کبھی قسم نہ کھائیں گے کیونکہ یہ دعویٰ سراسر دروغ ہے۔آپ اگر سچے ہیں تو لاہور میں ایک جلسہ مقرر کرکے حاضرین کے سامنے قسم کھالیں کہ میں نے کچھ نہیں دیکھا اور حاضرین میں وہ لوگ بھی ہوں گے جن کو ایسی روایت سے تعلق ہے۔ جس وقت آپ مجھے قسم کھانے کے لئے اطلاع دیں گے میں حاضر ہوجاؤنگا تا آپکی ایمانداری اور صداقت شعاری دیکھ لوں کہ کہاں تک آپ کو کذب اور افتراء سے پرہیز ہے۔ تب تسلّی رکھیں کہ ساری حقیقت کھل جائے گی اور آپ کی راستگوئی کاآپ کے شاگردوں پر بھی نمونہ ظاہر ہوجائے گا۔ اور جو آپ نے اس عاجز کی نسبت اپنی چند خوابیں تحریر کی ہیں اگر وہ صحیح بھی ہیں تب بھی اُن کی وہ تعبیر نہیں جو آپ نے سمجھیؔ ہے۔ بلکہ بسا اوقات انسان دوسرے کو دیکھتا ہے اور اس سے مراد اپنا نفس ہی ہوتا ہے معبّرین نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص مثلًا کسی نبی کو خواب میں نابینا یا مجذوم یا کسی حیوان کی شکل میں دیکھے تو اس کی یہ تعبیر ہو گی کہ یہ دیکھنے والا خود اِن آفتوں میں مبتلا ہے۔ مثلًا اگر اُس نے کسی مقدس آدمی کو یک چشم دیکھاہے تو اس کی یہ تعبیر ہوگی کہ دین میں وہ آپ ہی ناقص ہے۔ اور اگر مجذوم دیکھا ہے تو اس کی یہ تعبیر ہوگی کہ وہ آپ ہی فساد میں پڑا ہوا ہے۔ اور اگر اُس نے نبی کی مسخی صورت دیکھی ہے تو اس کی یہ تعبیر ہوگی کہ وہ آپ ہی اپنے دین میں مسخی صورت رکھتا ہے۔ کیونکہ مقدس لوگ آئینہ کی طرح ہوتے ہیں۔ انسان جو کچھ اُن کی شکل اوروضع میں اپنی رؤیا میں فرق دیکھتا ہے۔ درحقیت وہ عیب اُس کے اپنے وجود میں ہی ہوتا ہے۔ اور جس بد عملی میں اُس کو مشاہدہ کرتا ہے درحقیقت اس کا آپ ہی مرتکب ہوتا ہے۔ تعبیر رویت ابرار میں یہ اصول محکم ہے اس کو یاد رکھنا چاہیئے۔ ایک مدّت کی