جس پر نہ خود آنجناب نے انکار کیا اور نہ صحابہ حاضرین میں سے کوئی منکرہوا۔ کیا یہ حدیث مسلم میں نہیں ہے۔ اور آپ کا یہ عذر کہ الدّجال دجّال معہود کا خاص نام نہیں ہے، آپ کی غباوت اور کم علمی پر اوّل درجہ کی شہادت ہے۔ حضرت مولوی صاحب! اگر آپ صحیح بخاری یا مسلم یا کسی اور صحیح حدیث سے یہ مجھے ثابت کر کے دکھلاویں کہ الدّجال کالفظ بجُز دجّال معہودکے کسی اور پربھی صحابہ کے مُنہ سے اطلاق پایا ہے تو میں بجائے پانچ 3روپے کے پچا3س روپے آپ کی نذر کروں گا۔ آپ کیوں اپنی پردہ دری کراتے ہیں۔ چپکے رہیں حقیقت معلوم شد۔
پھرؔ ایک اور جھوٹ اور افتراء میرے پر آپ نے اپنے اشتہار میں یہ کیا ہے کہ گویا میں سچ مچ اپنے علم یقینی اور قطعی سے بخاری اور مسلم کی بعض احادیث کو موضوع سمجھتا ہوں۔ حضرت میرا یہ قول نہیں۔ معلوم نہیں کہ آپ کیوں اور کس وجہ سے اس قدر افتراء میرے پر دہاپ رہے ہیں۔ اور کب سے جعلسازی کی مشق آپ کو ہو گئی ہے۔ میں تو صرف اس قدر کہتا ہوں کہ اگر بخاری اور مسلم کی بعض اخباری حدیثوں کے اس طرز پر معنے نہ کئے جاویں جو قرآن کے اخبار سے مطابق وموافق ہوں تو پھر اس صورت میں وہ حدیثیں موضوع ٹھہریں گی۔ کیونکہ اصول فقہ کا یہ مسئلہ ہے کہ انما یرد خبر الواحد من معارضۃ الکتٰب میں نے کب اور کس وقت کہا تھا کہ درحقیقت قطعی اور یقینی طور پر فلاں فلاں حدیث بخاری یا مسلم کی میرے نزدیک موضوع ہے۔ مولوی صاحب حیا اور شرم شعبہ ایمان ہے فاتقوا اللّٰہ وکونوا من المؤمنین۔ پھر آپ اپنی ٹانگ خشک ہونے کی خواب سے نیم انکار کر کے لکھتے ہیں کہ یہ نقل کذب اور افتراء سے خالی نہیں۔ آپ کا یہ مقنّنانہ فقرہ صاف دلالت کر رہا ہے کہ کسی قدر اس بیان کی صداقت کا آپ کو اقرار ہے کیونکہ آپ کا ُ چھپا ہوا یہ منشاء ہے کہ اس خواب کو جیسا کہ نقل کیا گیا ہے وہ صورت نقل افتراء سے خالی نہیں۔ کیونکہ آپؔ نے یہ بیان نہیں کیا کہ یہ نقل سراسر افتراء ہے بلکہ یہ بیان کیا ہے کہ یہ نقل افتراء سے