رویت صحیح تھی۔ اور ان سب کا سکوت بطور شواہد مل کر اس امر کو اور بھی قوت دیتاہے کہ درحقیقت وہ حدیث صاحب تلویح نے بخاری میں دیکھی تھی۔ اور جس حالت میں صاحب بخاری تین لاکھ حدیثیں یاد رکھتے تھے اس صورت میں کیا قرین قیاس نہیں کہ بعض حدیثوں کے لکھنے میں نسخوں میں کمی بیشی ہو۔ اور اس طلاق کے مقابل پر میرا اشتہار لکھنا محض فضول تھا۔ اس سے اگر کچھ ثابت ہو تو فقط یہ ثابت ہو گا کہ بے وجہ نکتہؔ چینیاں آپ کی عادت ہے۔ حضرت! آپ جانتے ہیں کہ یوں تو ہرایک شخص کو اختیار ہے کہ اپنی بیوی کو نافرمان یا سرکش یا بد زبان یابکلّی ناہموار اور نا موافق پاکراس کو طلاق دے دیوے۔ اس طرح تو پیغمبربھی دیتے رہے ہیں۔لیکن ایک شخص بحث اور جھگڑا تو لوگوں سے کرے اور ناحق اپنی بے خبر اور بے گناہ بیویوں کو غصّہ میں آ کر طلاق دیوے یہ امر وحشیانہ اور سراسر خلاف تہذیب ہے۔ کیامناسب ہے کہ گناہ کسی کا ہو اور مارا جائے کوئی۔ کیا سُنّت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کا کوئی نمونہ پایاجاتاہے۔ آپ کا یہ بھی جھوٹ ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام ابو حنیفہ کی تحقیر نہیں کی۔ اگر آپ کو ایک بات میں نادان کہاجائے تو آپ کو کیسا غصہ آتا ہے۔ مگر آپ نے تو امام صاحب کو حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے قریب قریب محروم مطلق کے ظاہر کیا کیا یہ تحقیر نہیں؟ ہمارے اور آپ کے حنفی علماء منصف رہے۔ پھر آپ اپنے اشتہار میں میرے اس قول کو اکاذیب میں داخل قرار دیتے ہیں کہ ابن صیّاد کے دجّال ہونے پر صحابہ کا اجماع تھا خدائے تعالیٰ آپ کے حال پر رحم کرے۔ کیاؔ خود ابن صیّاد کے بیان سے جو بعد مشرف باسلام ہونے کے اس نے کیا تھا جو صحیح مسلم میں موجود ہے ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ اس کو دجّال معہود کہتے تھے۔ کیا اس حدیث میں کوئی صحابی باہر بھی رکھا ہے جو اس کو دجّال معہود نہیں سمجھتا تھا۔ یا کیا اس خبر کے مشہور ہونے کے بعد کسی صحابی کا انکار مروی ہے۔ اس کا ذرہ نام تو لو۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ اصول فقہ کی رو سے اجماع کی قسموں میں سے ایک سکوتی اجماع بھی ہے۔ کیا آپکو معلوم نہیں کہ ابن صیّاد کے دجّال معہود ہونے پرحضرت عمرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں قسم کھائی