آپ نے اپنی دونوں بیویوں کو طلاق دیدی۔ ہریک دانا کی نظر میں قابل ہنسی ہے کیونکہ آپ کو تلویح کی عبارت کا ایک حصہ سُنا دیاگیاؔ تھا۔ جس کے حوالہ سے وہ حدیث بیان کی گئی تھی اور ظاہر ہے کہ صاحب تلویح نے بطور شاہد اپنے تئیں قرار دے کر بیان کیا ہے کہ وہ حدیث یعنی عرض الحدیث علی القرآن کی حدیث بخاری میں موجود ہے۔اب اس کے مقابل پر یہ عذر پیش کرنا کہ نسخہ جات موجودہ بخاری جو ہند میں چھپ چکے ہیں ان میں یہ حدیث موجود نہیں۔ سراسرناسمجھی کا خیال ہے۔ کیونکہ علم محدود کے عدم سے بکلّی عدم شے لازم نہیں آتا۔ جس حالت میں ایک سرگروہ مسلمانوں کا اپنی شہادت رویت سے اس حدیث کا بخاری میں ہونا بیان کرتا ہے اور آپ کو یہ دعویٰ نہیں اور نہ کر سکتے ہیں کہ تمام دنیاکے نسخہ جات بخاری کے قلمی وغیر قلمی آپ دیکھ چکے ہیں۔ پھر کس قدر فضولی ہے کہ صرف چند نسخوں پر بھروسہ کر کے بے گناہ عورتوں کو طلاق دی جائے۔ اگر ثانی الحال کوئی قلمی نسخہ نکل آوے جس میں یہ حدیث موجود ہو تو پھر آپ کا کیا حال ہو۔ مومن کی شہادت عند الشرع قابل پذیرائی ہوتی ہے اور فقط ایک کی شہادت رویت ماہ رمضان سے تمام دنیا کے مسلمانوں پر روزہ رکھنا فرض ہوجاتا ہے۔ اس صورت میں علّامہ تفتازانی صاحب تلویح کی شہادت بالکل ضائع اور نکمی نہیں ہو سکتی بخاری کے مطبوعہ نسخوں میں بھی بعض الفاظ کا اختلاف موجود ہے۔ پھرؔ سارے جہان کے قلمی نسخوں کاکون ٹھیکہ لے سکتاہے۔ پس آپ کی بے دلیل نفی بے سود ہے۔ حضرت! مثبت کے بیان کو قواعد تحقیق کی رُو سے ترجیح ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ زیادت علم ہے۔ اب اس شہادت کے مقابل پرجو عند الشرع قابل قبول ہے جب تک آپ سارے زمانہ کے قلمی نسخے نہ دکھا دیں اور صاحب تلویح کا کذب ثابت نہ کرلیں تب تک احتمالی طور پر طلاق واقعہ ہوگئی ہے۔ علماء کو پوچھ کر دیکھ لیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر صاحب تلویح اپنی رویت میں کاذب ہوتا تو اُسی زمانہ میں علماء کی زبان سے اس کی تشنیع کی جاتی اور اس سے جواب پوچھاجاتا۔ اورجبکہ کوئی جواب پوچھا نہیں گیا تو یہ دوسری دلیل اِس بات پر ہے کہ درحقیقت اسکی