بلکہ اُس کے بعض اجزاء مسخ شدہ بھی ہوتے ہیں۔ اِسی وجہ سے میں نے کہا تھا کہ آپ ناراض نہ ہوں۔ آپ دین کے حقیقی علم سے بے خبرہیں۔خدا تعالیٰ آپ کے ہر یک تکبّر کوتوڑ دے گا اور آپ کا چہرہ آپ کو دکھلادے گا۔افسوس کہ آپ کی کچی باتیں آپ کو شرمندہ نہیں کرتیں۔ اور باجود سخت لاجواب ہوجانیکے پھر بھی علم حدیث کا دعویٰ چلاجاتا ہے۔ آپ نے کہا تھا کہ الدجّال سے مراد خاص مسیح الدجّال نہیں۔بلکہ دوسرے دجّالوں کی نسبت بھی صحاح میں الدجّال بولا گیا ہے۔ لیکن جب آپ کو کہا گیا کہ یہ سراسر آپ کی غلطی ہے آپ کو حدیث رسول اللہ کا حقیقی علم نصیب نہیں۔ اگر آپ بجُز دجّال معہود کے کسی اور کی نسبت یہ لفظ صحاح سِتّہ میں اطلاق پانا ثابت کریں تو آپ کو پانچ روپے بطور تاوان ملیں گے تو آپ ایسے چُپ ہوئے کہ کوئی جواب آپ سے بن نہ پڑا۔ یہ غرور اور تکبّر کی سزا ہے کیا بے علمی اسی کا نام ہے یا کسی اور چیز کا کہ آپ نے الدجّال کے متعلق حدیث رسول اللہ کے اُلٹے معنے کئے اور محضؔ افتراء کے طور پر کچھ کا کچھ گھڑ کے سُنا دیا یہی حدیث دانی ہے؟ پھر آپ نے دعویٰ کیا تھا کہ میں صحیحین کی حدیثوں کا تعارض دُور کر سکتا ہوں۔ اِسکے جواب میں آپ کوکہا گیا کہ اگر آپ قبول کریں تو چند منصف مقرر کر کے چند متعارض حدیثیں آپ کے سامنے بغرض تطبیق و توفیق پیش کی جائیں گی۔ اگر آپ اپنی علمی لیاقت سے تعارض دُورکرکے دکھلا دیویں گے تو پچیس3 روپے آپ کو انعام ملیں گے اور آپکی علمیت مسلّم ٹھہرجائیگی اور اگر چُپ رہیں تو آپ کی بے علمی ثابت ہوگی۔ لیکن آپ چپ رہے۔ سو میں مکرر کہتا ہوں کہ ہر چندج مرکب کی وجہ سے آپ کو دعویٰ علم دین بہت ہے مگر آپ خوب یاد رکھیں کہ جب تک ان تمام آزمائشوں میں آپ صادق نہ نکلیں تب تک یہ دعویٰ بے اصل وبے دلیل ہے۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ ان آزمائشوں میں ہرگز آپ عزت کے ساتھ اپنا انجام نہیں دیکھیں گے۔ یہ سزا اس کبر کی ہے کہ خدائے تعالیٰ ہریک متکبّر کو دیتا ہے۔ 33 ۱ اور آپ کا وہ جوش جس کی وجہ سے شرطی طورپر