مرتکب ہوئے اور نخوت سے بھرا ہوا جوش آپ کو اس جرم کا مرتکب بناتا رہا۔ آخری روز میں بھی آپ سے یہی حرکت صادر ہوئی اور وحشیانہ غیظ وغضب اس کے علاوہ ہوا۔ جس کی وجہ سے آپ سے بحکم آیۃ کریمہ اَعْرِضْ بکلّی اِعراض لازم آیا۔ اور آپ کو نقل جواب نہ دی گئی۔ حضرت !آپ کے لفظ لفظ میں نخوت اور تکبّر بھرا ہوا ہے اور فقرہ فقرہ سے اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ کی بدبُو آرہی ہے۔بھلا ایک کتاب کے نام کی غلطی کا الزام دینا کیا یہی تہذیب تھی۔ اور وہ بھی سفلہ طبع ملّاؤں کی طرح سراسر دروغ۔ اگر میں چاہتا تو آپ کی صرف نحو بھی اُسی وقت لوگوں کو دکھلا دیتا۔ لیکن یہ کمینگی کی خصلت مجھ سے صادرؔ نہیں ہو سکتی تھی۔ میں دیکھتاہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ اپنے اِس تعصّب اور پست خیالی سے تائب نہیں ہوں گے تو خدائے تعالیٰ جیسا کہ قدیم سے اس کی سُنت ہے آپ کے علم کی بھی پردہ دری کرے گا اور آپ کو آپ کا اصلی چہرہ دکھلاوے گا۔ جس وقت آپ اس عاجز کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص بے علم او رنادان اور جاہل اور مفتری ہے تو آپ کا ایسی چالاکیوں سے صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ تالوگوں کے ذہن نشین کریں کہ میں بڑا عالم اور دانا اورصاحب علم اور معرفت اور نیز صادق آدمی ہوں۔ لیکن اپنے مُنہ سے کوئی مرتبہ انسان کو نہیں مل سکتا جب تک آسمانی نور اس کے ساتھ نہ ہو۔ اور جس علم کے ساتھ آسمانی نور نہیں وہ علم نہیں وہ جہل ہے۔ وہ روشنی نہیں وہ ظلمت ہے۔وہ مغز نہیں وہ اُستخواں ہے۔ ہمار ا دین آسمان سے آیاہے اور وہی اس کو سمجھتا ہے جو وہ بھی آسمان سے آیا ہو۔ کیا خدائے تعالیٰ نے نہیں فرمایا 3 3 ۱ میں قبول نہیں کروں گا اور ہرگز نہیں مانوں گا کہ آسمانی علوم اور اُن کے اندرونی بھید اور اُن کے تہ درتہ چھپے ہوئے اسرار زمینی لوگوں کو خود بخود آسکتے ہیں۔ زمینی لوگ دابۃ الارض ہیں مسیح السماء نہیں ہیں۔ مسیح السماء آسمان سے اُترتا ہے اور اُسؔ کا خیال آسمان کومَسح کرکے آتا ہے اور روح القدس اُس پر نازل ہوتا ہے اس لئے وہ آسمانی روشنی ساتھ رکھتا ہے۔ لیکن دابۃِ الارض کے ساتھ زمین کی غلاظتیں ہوتی ہیں اورنیز وہ انسان کی پور ی شکل نہیں رکھتا۔