اُٹھ کھڑے ہوئے او رگاڑی میں کہ جو چپکی دروازہ پر کھڑی تھی ایسے جلدی ہواہو کر بھاگے کہ آپ کے ہمراہی چلتی گاڑی پر دوڑکر سوار ہوئے۔ اس افتراء کا میں کیاجواب دُوں۔ بجز اس کے کہ علی الکاذبین کہوں یا آپ ہی کا قول مندرجہ اشتہار آپ کیؔ خدمت میں واپس دُوں کہ جھوٹے پر اگر ہزار *** نہیں تو پانچ سو سہی۔ حضرت وہ گاڑی منشیؔ میراں بخش صاحب اکونٹنٹ کی تھی جو دروازے پر کھڑی تھی اور وہ خود جلسہ بحث میں تشریف رکھتے تھے اور وہی اس پر سوار ہو کر آئے تھے۔ تمام بازاری اس بات کے گواہ ہیں۔ منشی صاحب موصوف سے دریافت کیجئے کہ برخاست جلسہ بحث کے وقت اس پر کون سوار ہوا تھا اور کیا میں اپنے مکان تک آہستہ چال سے پیادہ آیا تھا یا اُس گاڑی پر ایک قدم بھی رکھا تھا۔ میرے ساتھ اُس وقت شاید قریب تیس ۳۰ آدمی کے ہوں گے جو سب پیادہ آئے تھے اور جب ہم اپنے مکان کے قریب پہنچ گئے تو منشی میراں بخش صاحب گاڑی پر سوار آپہنچے اور عذر کیا کہ میں سوار آیا اور آپ پیادہ آئے۔ اس قدر افتراء کیا اندھیر کی بات ہے کیا جھوٹ مولویوں کے ہی حصہ میں آگیا۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ آپ کی عہد شکنی نہایت قابل افسوس ہے۔آپ اس بات کو مانتے ہیں کہ آپ سے یہ شرط ہوچکی تھی کہ زبانی گفتگو ایک کلمہ تک نہ ہو جو کچھ ہو بذریعہ تحریر ہو۔ جیساکہ آپ نے اپنے اشتہار میں بھی لکھ دیا ہے لیکن آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے عمدًا اس شرط کو توڑ دیا اور جب آپ توڑ چکے اور عہد شکنی کےؔ طور پر مضمون سُنانے کے محل میں زبانی وعظ بھی کر چکے تب میں نے آپ کو کہا کہ اب زبانی وعظ کرنا میرا بھی حق ہوگا۔ پس اگر میں نے مضمون سُنانے کے وقت میں چند کلمے زبانی بھی کہے تو کیا یہ عہد شکنی تھی یا آپ کی عہد شکنی کا عوض معاوضہ تھا جس کی نسبت میں وعدہ کرچکا تھا۔ حضرت مولوی محمد حسن صاحب جو رئیس او رآپ کے دوست ہیں جن کے مکان پر آپ نے یہ عہد شکنی کی تھی اگر قسم کھا کر میر ے روبرو میرے اس بیان کا انکار کریں تو پھر میں اس الزام سے دست بردار ہوجاؤں گا ورنہ آپ ناراض نہ ہوں۔آپ بلاشبہ جریمہ عہد شکنی کے کئی دفعہ