میرے بھی ہوجاتے۔ چونکہ مولوی صاحب کی نیت نیک نہیں تھی اس لئے انہوں نے اس بحث کا خاتمہ سُن کر جس قدرجوش دکھلایا اور جس قدر خشونت وحشیانہ ظاہر کی اور جس قدر خلاف تہذیب کلمات اس جوش کی حالت میں اُن کے مُنہ سے نکلے وہ اُن سب پر ظاہرہیں جو اُس وقت حاضر تھے۔ انہوں نے ایک یہ بھی چالاکی اختیار کی کہ اپنی جماعت کے لوگوں کے نام بطور گواہوں کے اپنے اشتہار پر لکھ دئے تا لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوکہ وہ فی الحقیقت سچے ہیں۔ تبھی تو اتنے گواہ اُن کے بیان کے مصدّق ہیں۔ لیکن یہ کس قدر بددیانتی ہے کہ اپنی ہی جماعت کو جو اپنے حامی اور انصار اور ایک ہی مدعامیں شریک ہوں بطور گواہوں کے پیش کیاجائے۔ آخر اس جلسہ میں ثالث آدمی بھی تو موجود تھے جن کو فریقین سے کچھ تعلق نہ تھا۔ جیسے حضرت خواجہ احسن شاہ صاحب آنریری مجسٹریٹ و رئیس اعظم لودیانہ جو اس شہر کے ایک نامی معزّز اور منتخب رئیس اور صادق اور راستباز آدمی ہیں۔ اور ایسا ہی منشی میراں بخش صاحب اکونٹنٹ جو ایک معزّز عہدہ دار اور متانت شعار اور اپنے عہدہ اور تنخواہ کی رُو سے اکسٹرا اسسٹنٹوں کے ہم رُتبہ ہیں۔ ایساہی حاجی شہزادہ عبد المجید خاں صاحب۔ ڈاکٹر ؔ مصطفےٰ علی صاحب خواجہ محمد مختار شاہ صاحب رئیس اعظم لودیانہ۔ خواجہ عبد القادر شاہ صاحب۔ ماسٹر چراغ الدین صاحب۔ منشی محمد قاسم صاحب۔ ماسٹرقادر بخش صاحب۔ میاں شیر محمد خاں صاحب جھجروالہ اور کئی اور معزّز بھی موجود تھے۔ ان تمام معزز رئیسوں اور عہدہ داروں اوربزرگوں کو کیوں گواہی سے باہر رکھا گیا اور کیوں اُن کی شہادتیں درج نہ ہوئیں۔ حالانکہ فقط جناب خواجہ احسن شاہ صاحب رئیس اعظم کی گواہی ہزار عوام الناس کی گواہی کے برابر تھی۔ اس کا سبب یہی تھا کہ اِن بزرگوں کے بیان سے اصل حقیقت کھلتی تھی۔ افسوس کہ مولوی محمد حسین صاحب نے علاوہ اِن اکاذیب کے جو بحث کے متعلق بیان کئے ایک بازاری جھوٹ ہے جو بحث سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا نا حق اپنے اشتہار میں لکھ دیا۔ چنانچہ وہ اس عاجز کی نسبت اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ مجلس سے