اخبار وغیرہ سے معارض نہ ہو۔ لیکن پھر بھی مولوی صاحب بار بار اپنے پرچہ میں یہی لکھتے رہے کہ ابھی میرا جواب نہیں آیا۔ ابھی جواب نہیں آیا۔ حالانکہ اُن کا حق صرف اتنا تھا کہ میرا مذہب دریافت کریں۔ اور جب میں اپنا مذہب بیان کر چکا تو پھر اُن کو ہرگز استحقاق نہ تھا کہ ناحق وہی بات بار بار پوچھیں جس کا میں پہلے جواب دے چکا اور اس طرف لوگ بہت تنگ آگئے تھے اور بعض لوگ جو دُور سے اصل بحث سننے کے لئے آئے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ باراں دن تک اصل بحث کا نام و نشان ظاہر نہیں ہواتو وہ نہایت دل شکستہ ہوگئے تھے کہ ہم نے یونہی دن ضائع کئے لہٰذا برطبق حدیث من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ سخت ناچار ہو کر اس فضول بحث کو بند کرناپڑا۔اگرچہ مولوی صاحب کسی طرح نہیں چاہتے تھےؔ کہ اصل بحث کی طرف آویں اور اس فضول بحث کو ختم کریں بلکہ ڈراتے تھے کہ ابھی تو میرے اصول موضوعہ اور بھی ہیں جن کو میں بعد اس کے معرض بحث میں ڈالوں گا۔ اور لوگ جلتے تھے کہ خدا آپ کے اصول موضوعہ کا ستیاناس کرے آپ کیوں اصل بحث کی طرف نہیں آتے۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ مولوی صاحب کی یہ شکایت کس قدرہیچ ہے کہ مجھے جواب لکھنے کے لئے اپنامضمون نہیں دیا۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں یہ عاجز حسب رائے عام یہ بحث تمہیدی ختم کر چکا تھا تو پھر مولوی صاحب کو تحریری جواب کا کیوں موقعہ دیاجاتا۔ا گر وہ جواب تحریر کرتے تو پھرمیری طرف سے بھی جواب الجواب چاہیئے تھا۔ اس صورت میں یہ تسلسل کب اور کیوں کر ختم ہوسکتا تھا میں نے بے وقت اس تمہیدی بحث کو ختم نہیں کیا۔ بلکہ باراں دن ضائع کر کے اور مضمون بحث کو دس جزو تک پہنچا کر اور اکثر لوگوں کا واویلا اور شکایت سُنکر بدرجہ ناچاری مباحثہ کو ختم کیااورساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ا ب اصل بحث شروع کریں میں حاضر ہوں۔ لیکن وہ اصل بحث سے تو ایسا ڈرتے تھے جیسا کہ ایک بچہ شیر سے اور چونکہ پہلا سوال مولوی محمد حسین صاحب کی طرف سے تھا اس لئے یہ میرا حق بھی تھا کہ میرے جواب پر ہی بحثؔ ختم ہوتی تا چھ ۶ پرچے اُنکے اور چھ۶پرچے