۳۱ جولائی ۱۸۹۱ ؁ء کو جب میں جواب سُنانے کے لئے گیا تو جاتے ہی مولوی محمد حسین صاحب کے طور بدلے ہوئے نظر آئے۔ اُن کی ہرایک بات میں کجی معلوم ہوتی تھی اور بداخلاقی کا کچھ انتہا نہ تھا۔ جب میں مضمون حاضرین کے رو برو پڑھنے لگا تو انہوں نے دخل بے جا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ خواہ نخواہ فضولی کے طور پر بول اُٹھے کہ تم نے کسی کتاب کانام غلط پڑھا ہے۔ اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اس عاجزؔ نے کوئی نام غلط نہیں پڑھا تھا۔ مولوی صاحب کو صرف اپنی شیخی اور علمیّت ظاہر کرنا منظور تھا جس کے جوش میں آکر انہوں نے ترک گفتگو زبانی کا عہد کئی بار توڑا۔ اور جیسے پُل ٹوٹنے سے پانی زور سے بہ نکلتا ہے ایساہی اُن کا صبرٹوٹ کر نفسانی جذبات کا سیلاب جاری ہوا۔ ہرچند کہا گیا کہ حضرت مولوی صاحب آپ سے یہ شرط ہے کہ آپ میری تقریر کے وقت خاموش رہیں جیسا میں خاموش رہا۔ لیکن انہوں نے صبر نہ کیا کیونکہ سچائی کے رُعب سے اُن پر حق پوشی کے لئے ایک قلق طاری ہو رہا تھا۔ آخر دیکھتے دیکھتے اُن کی حالت خوفناک ہوگئی۔ مگر شکر ِ للہ کہ اس عرصہ میں تمام مضمون سُنایاگیا۔ اور آخری مضمون یہ تھا کہ اب یہ تمہید ی بحث ختم کی گئی کیونکہ امور مستفسرہ کا بہ بسط تمام جواب ہوچکا۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ اگر مولوی صاحب کے دل میں او ر بھی خیالات باقی ہیں تو بذریعہ اپنے رسالہ کے شائع کریں۔ اس تمہیدی بحث کے ختم کرنے کی وجہ یہی تھی کہ فریقین کے بیانات نہایت طول تک بلکہ دس جزو تک پہنچ چکے تھے اور برابر باراں دن اس ادنیٰ اور تمہیدی مباحثہ میں خرچ ہوئے تھے۔ اور اس تمام بحث میں مولوی صاحب کا صرف ایک ہی سوال بار بار تھا کہ کتاب اللہ اور حدیث کو مانتے ہو یا نہیںؔ ۔ جس کاکئی دفعہ مولوی صاحب کو کھول کھول کر جواب دیاگیا کہ کتاب اللہ کو بلاشرائط اورحدیث کو بشرط مانتا ہوں اور مکرر استفسار پر اصل منشاء ظاہر کر دیا گیا کہ حدیث کا وہ حصہ جو اخباراور مواعید اور قصص اور واقعات گذشتہ سے متعلق ہے اس شرط سے قبول کیا جائے گا کہ قرآن کریم کے