ایسی گستاخی ہو سکتی ہے؟ہرگز نہیں اور یہ امر بھی قابل اظہار ہے کہ یہ خیال مذکورہ بالا جو کچھ عرصہ سے مسلمانوں میں پھیل گیا ہے صحیح طور پر ہماری کتابوں میں اس کا نام و نشان نہیں بلکہ احادیث نبویہ کی غلط فہمی کا یہ ایک غلط نتیجہ ہے جس کے ساتھ کئی بے جا حاشیے لگا دیئے گئے ہیں اور بے اصل موضوعات سے ان کو رونق دی گئی ہے اور تمام وہ امور نظرانداز کر دیئے گئے ہیں جو مقصود اصلی کی طرف رہبر ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں نہایت صاف اور واضح حدیث نبوی وہ ہے جو امام محمد اسمٰعیل بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لکھی ہے اور وہ یہ ہے کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم یعنی اس دن تمہارا کیا حال ہو گا جب ابن مریم تم میں اترے گا وہ کون ہے؟ وہ تمہارا ہی ایک امام ہو گا جو تم ہی میں سے پیدا ہو گا۔ پس اس حدیث میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے صاف فرما دیا کہ ابن مریم سے یہ مت خیال کرو کہ سچ مچ مسیح بن مریم ہی اتر آئے گا بلکہ یہ نام استعارہ کے طور پربیان کیا گیا ہے ورنہ درحقیقت وہ تم میں سے تمہاری ہی قوم میں سے تمہارا ایک امام ہو گا جو ابن مریم کی سیرت پر پیدا کیا جائے گا۔ اس جگہ پرا نے خیالات کے لوگ اس حدیث کے معنے اس طرح پر کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح آسمان سے اُتریں گے تو وہ اپنے منصب نبوّت سے مستعفی ہو کر آئیں گے۔ انجیل سے انہیں کچھ غرض نہیںہو گی۔ امت محمدیہ میں داخل ہو کر قرآن شریف پر عمل کریں گے۔ پنج وقت نماز پڑھیںگے اور مسلمان کہلائیں گے!!!مگر یہ بیان نہیں کیا گیا کہ کیوں اور کس وجہ سے یہ تنزّل کی حالت انہیں پیش آئے گی بہر حال اس قدر ہمارے بھائیوں مسلمان محمدیوں نے آپ ہی مان لیاہے کہ ابن مریم اس دن ایک مرد مسلمان ہو گا جو اپنے تئیں امت محمدیہ میں سے ظاہر کرے گا اور اپنی نبوت کا نام بھی نہ لے گا جو پہلے اس کو عطاکی گئی تھی ۔ اور درحقیقت یہی ایک بھاری مشکل ہے کہ جو استعارہ کو حقیقت پر حمل کرنے سے ہمارے بھائیوں کو پیش آگئی ہے جس کی وجہ سے اُنہیں ایک نبی کا اپنے منصب نبوت سے محروم ہو جانا تجویز کرنا پڑا۔ اگر وہ ان صاف اور سیدھے معنوں کو