اس عہد شکنی پر بھی تعرض کرنا مناسب نہ سمجھا۔ تا گریز اور التواء بحث کے لئے انکو کوئی حیلہ نہ ہاتھ آ جائے۔ وہ قسم کھا کر بیان کریں میں قبول کرلوں گاکہ کیا اُن کی اس عہد شکنی سے پہلے کوئی ایک ذرہ خلاف عہد بات مجھ سے بھی ظہور میں آئی۔ اور اگرچہ مجھے خوب معلوم تھا کہ ایک غیر ضروری بحث طول پکڑتی جاتی ہے اور باوجودیکہ امور مستفسرہ کا جواب شافی کافی دیا گیا ہے پھر بھی مولوی صاحب صرف اصل بحث کو ٹالنے کی غرض سے تمہیدی امور کی بے سُود دُم کھینچتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہی رہاکہ اگر میں نے کچھ بھی بات کی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مولوی صاحب ایک بہانہ تراش کر اپنے گھر کی طرف سدھاریں گے حاضرین مجلس جو میرے اور مولوی صاحب کے مباحثات کو دیکھتے رہے محض للہ شہادت دے سکتے ہیں کہ میں نے اُن کی سخت زبانیوں پر بھی جو میرے بالمواجہ اُ ن سے ظہور میں آتی رہیں بہت صبر کیا اور ہرایک وقت جو انہوں نے میرا نام جاہل یانادان رکھا تو میں نے اپنے دل کوسمجھایاکہ سچ تو ہے بجُز خدا وند علیم مطلق کے کون ہے جو دانا کہلا سکتا ہے اور اگر انہوں نے مجھے مفتری کہا تو میں نے اپنے دل کو تسلی دی کہ پہلے بھی خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو یہی کہا گیا ہے۔ اور اگر انہوں نے مجھے کاذ ب کاذب کر کے پکارا تو میں نے اپنے دل پر قرآن کریم کی آیتیں عرض کیںؔ کہ دیکھ پہلے راستباز بھی کاذب کاذب کر کے پکارے گئے ہیں۔ غرض اسی طرح میں نے صبر سے گیاراں روز گذارے اور شہر میں اُن کی بد زبانی کا شورپڑ گیا۔ اور جس روز انہوں نے چھہتر ۷۶ صفحہ کاجواب سُنایا اور بہت کچھ بد زبانی اور چالاکی کی باتیں خارج از تحریر بیان کیں تو اُس وقت میں نے ایک مجمع کثیر کے رو برو جس میں اُن کے خاص دوست مولوی محمد حسن صاحب رئیس لودیانہ بھی تھے انہیں کہہ دیا کہ آج پھر آپ نے عہد شکنی کی اور خارج از تحریر زبانی وعظ کرنا شروع کردیا۔ اب مجھے بھی حق حاصل ہے کہ میں بھی اپنے مضمون سُنانے کے وقت کچھ زبانی وعظ بھی کروں۔ لیکن باوجودیکہ مجھے یہ حق حاصل ہوگیا تھا پھر بھی میں نے جواب سُنانے کے وقت اس حق سے بجُز ایک دو کلمہ کے کچھ فائدہ نہیں اُٹھایا