اکتیسؔ جولائی ۱۸۹۱ ء کا (بمقام لودھیانہ ) مباحثہ
اور
حضرت مولوی ابُو سعید محمدحسین صاحب بٹالوی کا واقعات کے برخلاف اشتہار
مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا اشتہار مورخہ یکم اگست ۱۸۹۱ ء میری نظر سے گذرا۔ جس کے دیکھنے سے مجھے سخت تعجب ہوا۔ کہ مولوی صاحب نے کیسی بے باکی سے اپنے اس اشتہارکو سراسر افترآت اور اکاذیب سے بھر دیاہے۔ وہ نہایت چالاکی سے شرائط شکنی کا الزام میرے ذمہ لگاتے ہیں۔ لیکنؔ اصل حقیقت جس کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے یہ ہے کہ وہ ایک دن بھی شرائط مقررہ پر قائم نہیں رہ سکے۔چنانچہ وہ اکثر برخلاف شرط قرار یافتہ کے اول مضمو ن مباحثہ اپنے ہاتھ سے لکھ کر پھر دوسرے سے لکھوا کر اورجا بجا کم و بیش کر کے تحریر ثانی کو دیتے رہے ہیں اور اگراُن کی اوّل تحریر اور ثانی کامقابلہ کیاجائے تو صاف ظاہر ہوگا کہ تحریر ثانی میں بہت کچھ تصرف ہے جو طریق دیانت اور امانت سے بالکل بعید تھا یہ اُن کی پہلی عہد شکنی ہے جو اخیر تک اُن سے ظہور میں آتی گئی۔ پھر دوسری عہد شکنی یہ کہ انہوں نے پہلے ہی سے یہ عادت ٹھہرا لی کہ سُنانے کے وقت تحریرسے تجاوز کر کے بہت کچھ وعظ کے طور پر صرف زبانی کہتے رہے جس کا کوئی نام و نشان تحریر میں نہیں تھا۔جب انہو ں نے اپنی وہ تحریر جو ۷۶ صفحہ کی تھی سُنائی تو بکلّی شرطوں کو توڑ کر زبانی وعظ شروع کر دیا۔ اور ان زبانی کلمات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ میں حدیثوں کے تعارض کو ایک دم میں رفع کر سکتا ہوں۔ ابھی رفع کرسکتا ہوں اور ساتھ اس کے بہت سی تیزی اور خلاف تہذیب اورچالاکی کی باتیں تھیں جن میں باربار یہ جتلانا انہیں منظور تھا کہ یہ شخص نافہم ہے۔ نادان ہے۔ جاہل ہے۔ لیکن اس عاجز نے اُن کی اِن تمام دل آزار باتوں پر ؔ صبر کیا اور اُن کی