یہ وہ شرائط ہیں کہ جو بیعت کرنے والوں کے لئے ضروری ہیں جن کی تفصیل یکم دسمبر ۱۸۸۸ ؁ء کے اشتہار میں نہیں لکھی گئی۔ اور الہامات جو اس بارہ میں آج تک ہوئے ہیں وہ یہ ہیں۔ اذاؔ عزمت فتوکل علی اللّٰہ واصنع الفلک باعیینا و وحینا الذین یبایعونک انما یبایعون اللّٰہ یداللّٰہ فوق ایدیھم یعنی جب تُو نے اس خدمت کے لئے قصد کر لیا تو خدائے تعالیٰ پر بھروسا کر اور یہ کشتی ہماری آنکھوں کے رو برو اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کریں گے وہ تجھ سے نہیں بلکہ خدا سے بیعت کریں گے۔خداکا ہاتھ ہوگا جو اُن کے ہاتھوں پر ہوگا۔ پھر ان دنوں کے بعد جب لوگ مسیح موعود کے دعویٰ سے سخت ابتلاء میں پڑ گئے یہ الہامات ہوئے۔ الذین تابوا واصلحوا اولٰئک اتوب علیھم وانا التواب الرحیم۔ امم یسرنا لھم الھدیٰ وامم حق علیھم العذاب ویمکرون ویمکراللّٰہ واللّٰہ خیر الماکرین و لکید اللّٰہ اکبر۔ وان یتخذونک الا ھزوا اھذا الذی بعث اللّٰہ۔ قل ایھا الکفار انی من الصادقین۔ فانتظروا اٰیاتی حتی حین سنریھم اٰ یٰتنا فی الاٰفاق۔ و فی انفسہم حجۃ قائمۃ وفتح مبین۔ ان اللّٰہ یفصل بینکم ان اللّٰہ لا یھدی من ھو مسرف کذّاب۔ یریدون ان یطفؤا نور اللّٰہ بافواھھم واللّٰہ متم نورہٖ ولو کرہ الکٰفرون۔ نرید ان ننزل علیک اسرارًا من السمآء ونمزق الاعداء کل ممزق ونری فرعون وھامان وجنودھما ما کانوا یحذرون سلّطنا کلا با علیک وغیظنا سباعًا من قولک وفتناک فتونا فلا تحزن علی الذی قالوا ان ربک لبالمرصاد۔ حکم اللّٰہ الرحمٰن لخلیفۃ اللّٰہ السلطان یوتی لہ الملک العظیم ویفتح علیٰ یدہ الخزائن وتشرق الارض بنور ربھا ذالک فضل اللّٰہ و فی اعینکم عجیب۔ یعنی ؔ جو لوگ توبہ کریں گے اور اپنی حالت کو درست کر لیں گے تب میں بھی اُن کی طرف رجوع کروں گا اور میں توّاب اور رحیم ہوں۔ بعض گروہ وہ ہیں جن کے لئے ہم نے ہدایت کو آسان کر دیا او ربعض وہ ہیں جن پر عذاب ثابت ہوا۔ وہ مکر کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی مکر کر رہا ہے اور وہ خیر الماکرین ہے اور اس کا