اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کامغلوب نہیں ہوگا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ سوم یہ کہ بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گااور حتی الوسع نماز تہجّد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدائے تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اورتعریف کو ہر روزہ اپنا ورد بنائے گا۔ چہارم یہ کہ عام خلق اللہ کوعمومًا اور مسلمانوں کو خصوصًا اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زباؔ ن سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔ پنجم یہ کہ ہر حال رنج وراحت اور عُسر اور یُسر اور نعمت اوربلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا او ربہر حالت راضی بقضا ہوگا۔ اور ہر یک ذلّت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں طیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وار دہونے پر اس سے مُنہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔ ششم یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا وہوس سے باز آئے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلّی اپنے سرپر قبول کرلے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنی ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔ ہفتم یہ کہ تکبّر اورنخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اورحلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔ ہشتم یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردئ اسلام کو اپنی جان اوراپنے مال اور اپنی عزت اوراپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔ نہم یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اورجہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔ دہم یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض ِ للہ باقرارطاعت درمعروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسااعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔