اس گروہ کو بہت بڑھائے گا اور ہزارہا صادقین کو اس میں داخل کرے گا وہ خود اس کی آبپاشی کرے گا او راس کو نشوونما دے گا۔ یہاں تک کہ اُن کی کثرت اوربرکت نظروں میں عجیب ہوجائے گی اور وہ اس چراغ کی طرح جو اُونچی جگہ رکھا جاتا ہے دنیا کے چاروں طرف اپنی روشنی کو پھیلائیں گے اور اسلامی برکات کے لئے بطور نمونہ کے ٹھہریں گے وہ اس سلسلہ کے کامل متبعین کو ہر یک قسم کی برکت میں دوسرے سلسلہ والوں پر غلبہ دے گا اور ہمیشہ قیامت تک اُن میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کو قبولیت اور نصرت دی جائے گی۔ اس رب جلیل نے یہی چاہا ہے وہ قادرہے جو چاہتاہے کرتاہے ہر یک طاقت اورقدرت اُسی کو ہے۔ فالحمد لہٗ اوّلًا واٰخرًا وظاہرًا وباطنًا اسلمنا لہ‘ ھو مولانا فی الدنیا والاٰخرۃ نعم المولٰی و نعم النصیر۔ خاکسار غلام احمد۔ لودھیانہ۔ محلہ جدیدمتصل مکان اخی مکرمی منشی حاجی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور۔ ۴۔ مارچ ۱۸۸۹ ؁ء بسمؔ اللّٰہ الرحمن الرحیم نحمدہٗ ونصلی تکمیل تبلیغ مضمون تبلیغ جو اس عاجز نے اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ ؁ء میں شائع کیا ہے جس میں بیعت کے لئے حق کے طالبوں کو بلایا ہے اس کی مجمل شرائط کی تشریح یہ ہے۔ اوّل بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرلے کہ آئندہ اُ س وقت تک کہ قبر میں داخل ہوجائے شرک سے مجتنب رہے۔ دوم یہ کہ جھوٹ اورزنا اور بدنظری اور ہر یک فسق اور فجور اور ظلم اور خیانت