کیونکہ برطبق آیت قِيْلَ ادْخُلِ الْجَـنَّةَ -۱ وَادْخُلِىْ جَنَّتِى -۲ وہ بلا توقف بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں۔ اب مسلمانوں میں اور عیسائیوں دونوں گروہ پر واجب ہے کہ اس امر کو غور سے جانچیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مسیح جیسا مقرّب بندہ بہشت میں داخل کرکے پھر اُس سے باہر نکال دیا جائے ؟کیا اِس میں خدا ئے تعالٰے کے اس وعدہ کا تخلّف نہیں جو اس کی تمام پاک کتابوں میں بتواتر و تصریح موجود ہے؟ کہ بہشت میں داخل ہونے والے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے۔کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدہ کا ٹوٹ جانا خدائے تعالیٰ کے تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ نہیں لاتا ؟پس یقینا سمجھو کہ ایسا اعتقاد رکھنے میں نہ صرف مسیح پر ناجائز مصیبت وارد کروگے بلکہ ان لغو باتوں سے خدائے تعالیٰ کی کسرِ شان اور کمال درجہ کی بے ادبی بھی ہوگی اس امر کو ایک بڑے غور اور دیدہ تعمق سے دیکھنا چاہیئے کہ ایک ادنیٰ اعتقاد سے جس سے نجات پانے کے لئے استعارہ کی راہ موجود ہے بڑی بڑی دینی صداقتیں آپ کے ہاتھ سے فوت ہوتی ہیں اور درحقیقت یہ ایک ایسا فاسد اعتقاد ہے جس میں ہزاروں خرابیاں سخت اُلجھن کے ساتھ گرہ در گرہ لگی ہوئی ہیں اور مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے کے لئے موقعہ ہاتھ آتا ہے۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ یہی معجزہ کفارِ مکہ نے ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاءصلے اللہ علیہ و سلم سے مانگا تھا کہ آسمان پر ہمارے روبرو چڑھیں اور روبرو ہی اتریں اور انہیں جواب ملا تھا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّىْ -۳ یعنی خدائے تعالیٰ کی حکیمانہ شان اِس سے پاک ہے کہ ایسے کھلے کھلے خوارق اس دارالابتلا میں دکھاوے اور ایمان بالغیب کی حکمت کو تلف کرے۔ اب میں کہتا ہوں کہ جو امر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے لئے جوا فضل الانبیاءتھے جائز نہیں اور سنت اللہ سے باہر سمجھا گیا وہ حضرت مسیح کے لئے کیوں کر جائز ہو سکتا ہے ؟ یہ کمال بے ادبی ہو گی کہ ہم آنحضرت صلے اللہ علیہ و سلم کی نسبت ایک کمال کو مُستبعد خیال کریں اور پھر وہی کمال حضرت مسیح کی نسبت قریبِ قیاس مان لیں ۔کیا کسی سچے مسلمان سے ۱- یٰس:۲۷ ۲- الفجر:۳۱ ۳- بنی اسرائیل: ۹۴