بقید ولدیّت وسکونت مستقل وعارضی طور معہ کسی قدر کیفیت کے (اگر ممکن ہو) اندراج پاویں اور پھر جب وہ اسماء مندرجہ کسی تعداد موزوں تک پہنچ جائیں تو اُن سب ناموں کی ایک فہرست تیار کرکے اور چھپواکر ایک ایک کاپی اس کی تمام بیعتؔ کرنے والوں کی خدمت میں بھیجی جائے اور پھر جب دوسرے وقت میں نئی بیعت کرنے والوں کا ایک معتد بہ گروہ ہوجاوے تو ایسا ہی اُن کے اسماء کی بھی فہرست تیار کر کے تمام مبائعین یعنی داخلین بیعت میں شائع کی جائے اور ایسا ہی ہوتا رہے جب تک ارادہ الٰہی اپنے اندازہ مقدر تک پہنچ جائے۔ یہ انتظام جس کے ذریعہ سے راستبازوں کا گروہ کثیر ایک ہی سلک میں منسلک ہو کر وحدت مجموعی کے پیرایہ میں خلق اللہ پر جلوہ نما ہو گا اور اپنی سچائی کے مختلف المخرج شعاعوں کو ایک ہی خط ممتد میں ظاہر کرے گا۔ خداوند عزّ وجلّ کو بہت پسند آیا ہے۔ مگر چونکہ یہ کارروائی بجُز اس کے بآسانی و صحت انجام پذیرنہیں ہو سکتی کہ خود مبایعین اپنے ہاتھ سے خوشخط قلم سے لکھ کر اپنا تمام پتہ ونشان بتفصیل مندرجہ بالا بھیج دیں۔ اس لئے ہر ایک صاحب کو جو صدق دل اورخلوص تام سے بیعت کرنے کے لئے
اور وہ مشکٰوتی نور دل میں پیدا ہوجاوے کہ جو عبودیت اور ربوبیت کے باہم تعلق شدید سے پیدا ہوتا ہے جس کو متصوفین دوسرے لفظوں میں روح قدس بھی کہتے ہیں جس کے پیدا ہونے کے بعد خدائے تعالےٰ کی نافرمانی ایسی بالطبع بُری معلوم ہوتی ہے جیسی وہ خود خدائے تعالےٰ کی نظر میں بُری ومکروہ ہے اور نہ صرف خلق اللہ سے انقطاع میسر آتا ہے بلکہ بجُز خالق ومالک حقیقی ہریک موجودکو کالعدم سمجھ کر فنا نظری کا درجہ حاصل ہوتا ہے سو اس نور کے پیدا ہونے کے لئے ابتدائی اتقا جسکو طالب صادق اپنے ساتھؔ لاتا ہے شرط ہے جیسا کہ اللہ تعالےٰ نے قرآن شریف کی علّت غائی بیان کرنے میں فرمایا ہے ھُدًی للمتّقین یہ نہیں فرمایا کہ ھدی للفاسقین یا ھُدًی للکافرین ابتدائی تقویٰ جس کے حصول سے متقی کا لفظ انسان پر صاد ق آسکتا ہے ۔ وہ ایک فطرتی حصہ ہے کہ جو سعیدوں کی خلقت میں رکھا گیا ہے اور ربوبیت اولیٰ اس کی مربی اور وجود بخش ہے جس سے متقی کا