وقت مسلما ن ہو چکا تھا اور بوجہ مشرف باسلام ہونے کے اس لائق تھا کہ اس کے بیان کو عزت اوراعتبار کی نظر سے دیکھاجائے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب وھذ ا اٰخر ما اردنا فی ھذا الباب والحمد للّٰہ اوّلًا و اٰخرًا و الیہ المرجع والمآب بسمؔ اللّٰہ الرحمن الرحیم نحمدہٗ و نصلی گذارش ضروری بخدمت اُن صاحبوں کے جو بیعت کرنے کے لئے مستعد ہیں اے اخوان مؤمنین ایّدکم اللّٰہ بروح منہ۔ آپ سب صاحبوں پر جو اس عاجز سے خالصًا لطلب اللہ بیعت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں*واضحؔ ہو کہ بالقائے رب کریم وجلیل (جس کا ارادہ ہے کہ مسلمانوں کو انواع واقسام کے اختلافات اور غل اور حقد اور نزاع اورفساد اور کینہ اور بُغض سے جس نے اُن کو بے برکت و نکمّا و کمزور کر دیا ہے نجات دے کر 3 ۱؂ کا مصداق بنا دے) مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض فوائد ومنافع بیعت کے جو آپ لوگوں کےؔ لئے مقدر ہیں اس انتظام پر موقوف ہیں کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مبارکہ ایک کتاب میں تاریخ ھذا سے جو ۴ مارچ ۱۸۸۹ ؁ء ہے ۲۵ مارچ تک یہ عاجز لودہیانہ محلہ جدید میں مقیم ہے اس عرصہ میں اگر کو ئی صاحب آنا چاہیں تو لودہیانہ میں ۲۰ تاریخ کے بعد آجاویں اور اگر اس جگہ آنا موجب حرج ودقت ہوتو ۲۵ مارچ کے بعد جس وقت کوئی چاہے قادیان میں بعد اطلاع دہی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوجاوے۔ مگر جس مدعا کے لئے بیعت ہے یعنی حقیقی تقویٰ اختیار کرنا اور سچا مسلمان بننے کیلئے کوشش کرنا ۔ اس مدعا کو خوب یاد رکھے ۔ اور اس وہم میں نہیںؔ پڑنا چاہیئے کہ اگر تقویٰ اور سچا مسلمان بننا پہلے ہی سے شرط ہے تو پھر بعد اس کے بیعت کی کیا حاجت ہے۔ بلکہ یاد رکھنا چاہیئے کہ بیعت اس غرض سے ہے کہ تا وہ تقویٰ کہ جو اوّل حالت میں تکلّف او رتصنّع سے اختیارکی جاتی ہے دوسرا رنگ پکڑے اور ببرکت توجہ صادقین وجذبہ کاملین طبیعت میں داخل ہوجائے اور اس کا جز بن جائے