مثیل نکلے گا اور مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تمیم داری کا خیال تو یہ تھا کہ دجّال بحرشام میں ہے یعنی اس طرف کسی جزیرہ میں۔ کیونکہ تمیم نصرانی ہونے کے زمانہ میں اکثر ملک شام کی طرف جاتا تھا۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال کو ردّ کر دیا اور فرمایا کہ وہ مشرق کی کسی خاص طرف سے نکلے گا اور ممالک مشرقیہ میں ہندوستان داخل ہے۔ اس جگہ یہ بھی یادرہے کہ اس خبر تمیم داری کی تصدیق کے بارے میں ایسے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ سے ہرگز نہیں نکلے جو اس بات پر دلالت کرتے ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تمیم داری کے دجّال کا وجود یقین کرلیا تھا بلکہ اس بات کی تصدیق پائی جاتی ہے کہ دجّال مدینہ منوّرہ اور مکہ معظمہ میں داخل نہیں ہو گا۔ ماسوا اس کے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ تصدیق وحی کی رو سے ہے اور جاننے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ آنحضرت صلعم جو اخبار وحکایات بیان کردہ تصدیق کرتے تھے اس کے لئے یہ ضرور نہیں ہوتا تھا کہ وہ تصدیق وحی کی رُو سے ہو۔ بلکہ بسا اوقات محض مخبر کے اعتبار کے خیال سے تصدیق کرلیا کرتے تھے۔چنانچہ کئی دفعہ یہ اتفاق ہوا ہوگا کہ آنحضرت صلعم نے کسیؔ مخبر کی خبر کو صحیح سمجھا اور بعد ازاں وہ خبر غلط نکلی بلکہ بعض وقت ایک مخبر کے اعتبار پر یہ خیال کیاگیاکہ دشمن چڑھائی کرنے والا ہے اور پیش قدمی کے طور پر اس پر چڑھائی کر دی گئی لیکن آخر کا ر وہ خبر غلط نکلی۔ انبیاء لوازم بشریت سے بالکل الگ نہیں کئے جاتے۔ ہاں وحی الٰہی کے پہنچانے میں محفوظ اور معصوم ہوتے ہیں۔سو یہ قصہ تمیم داری والا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سُنا ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتاکہ وحی کی رُو سے آنحضرت صلعم نے اس قصہ کی تصدیق کی اورحدیث میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں کہ اس خیال پر دلالت کر سکے۔پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلعم کے الفاظ سے جس قدر تصدیق اس قصہ کی پائی جاتی تھی وہ تصدیق وحی کی رو سے ہرگز نہیں۔ بلکہ محض عقلی طورپر اعتبار راوی کے لحاظ سے ہے۔ کیونکہ تمیم داری اس قصہ کے بیان کرنے کے