کہ جوان اُونٹنیاں جو بار برداری اورسواری کا بخوبی کام دیتی ہیں چھوڑ دی جائیں گی پھر اُن پر سواری نہیں کی جائے گی۔ اب واضح ہو کہ یہ ریل گاڑی کی طرف اشارہ ہے جس نے تمام سواریوں سے قریبًا نوع انسان کو فارغ کردیا ہے اور جو تمام دنیا کے ستّر ہزار میل میں پھر گئی ہے اور ہندوستان کے سولہ ہزار میل میں۔ چونکہ عرب میں اعلیٰ درجہ کی سواری جو ایک عربی کے تمام گھرکو اُٹھاسکتی ہے اونٹنی کی سواری ہے جو باربرداری اور مسافت کے طے کرنے میں تمام سواریوں سے بڑھ کر ہے اِس لئے آنحضرت صلعم نے اِسی کی طرف اشارہ کیا تا اعلیٰ کے ذکر کرنے سے ادنیٰ خود اس کے ضمن میں آجائے۔ پس فرمایاؔ کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت میں یہ سب سواریاں بے قدرہوجائیں گی اور کوئی اُن کی طرف التفات نہیں کرے گا یعنی ایک نئی سواری دنیا میں پیدا ہوجائے گی جو دوسری تمام سواریوں کی وقعت کھودے گی۔ اب اگر عمومًا تمام لوگ اِس ریل گاڑی پر سوار نہ ہوں تو یہ پیشگوئی ناقص رہتی ہے۔
اس جگہ یہ بھی ظاہر ہے کہ مسلم کی حدیث سے جو فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے ثابت ہوتا ہے جو دجّال ہندوستان سے نکلنے والا ہے جس کا گدھا دخان کے زورسے چلے گا جیسے بادل جس کے پیچھے ہواہوتی ہے اور ایسا ہی مسیح بھی اسی ملک میں اوّل ظہور کرے گا گو بعد میں مسافر کے طور پر کسی اور ملک دمشق وغیرہ میں نزول کرے۔ نزول کا لفظ جو دمشق کے ساتھ لگایا گیاہے خود دلالت کررہا ہے جو دمشق میں اس کا آنا مسافرانہ طورپر ہوگا اور اصل ظہورکسی اور ملک میں اور ظاہر ہے کہ جس جگہ دجّال ظہور کرے اُسی جگہ مسیح کا آنا ضروری ہے کیونکہ مسیح دجّال کے لئے بھیجا گیا ہے اور یہ بھی اسی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دجّال خود نہیں نکلے گا بلکہ اس کا کوئی مثیل نکلے گا اور حدیث کے لفظ یہ ہیں الا انّہ‘ فی بحر الشام او بحر الیمن لا بل من قبل المشرق ماھو و اَوْمیٰ بیدہ الیؔ المشرق رواہ مسلم۔ یعنی خبردارہو کیا دجّال بحرشام میں ہے یا بحر یمن میں۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا۔ نہیں وہ یعنی وہ نہیں نکلے گا بلکہ اس کا