تو مرزا غلام احمد صاؔ حب ایک عجیب وجیہ حسین اور شاندار صورت میں تشریف رکھتے ہیں۔ یہ خواب میں نے حافظ عبد الغنی صاحب سے جو تراوڑی میں ایک مسجد کا امام ہے بیان کی تھی اور میرزا صاحب نے ابھی مسیح ہونے کا دعویٰ مشتہر نہیں کیا تھا۔ یہ شہادتیں ہیں جو رسالہ کے ختم ہونے کے بعد ہم کوملیں۔ ایسا ہی ایک اعتراض بھی اس رسالہ کے ختم ہونے کے بعد پیش کیا گیا اور وہ یہ ہے کہ اگرمسیح دجّال کے گدھے سے مراد یہی ریل گاڑی ہے تو اس ریل پر تو نیک و بد دونوں سوار ہوتے ہیں بلکہ جس کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ہے وہ بھی سوار ہوتا ہے پھر یہ دجّال کا گدھا کیوں کر ہوگیا۔ جواب یہ ہے کہ بوجہ ملکیت اور قبضہ اور تصرّف تام اور ایجاد دجّالی گروہ کے یہ دجّال کا گدھا کہلاتا ہے۔اور اگر عارضی طورپر کوئی اس سے نفع اُٹھاوے تو اس سے وہ اس کا مالک یا موجد ٹھہرنہیں سکتا۔ خرِ دجّال کی اضافت ِ ملکی ہے۔پھر اگر خدا تعالیٰ دجّال کی مملوکات و مصنوعات میں سے بھی مومنوں کو نفع پہنچاوے تو اس میں کیا حرج ہے۔ کیا انبیاء کفار کی مملوکات و مصنوعات سے نفع نہیں اُٹھاتے تھے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر خچر کی سواری کرتے تھے حالانکہ احادیث نبویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ گدھے سے گھوڑؔ ی کو ملانا ممنوع ہے۔ ایسے ہی بہت نمونے پائے جاتے ہیں۔ماسوا اس کے جبکہ مسیح موعود قاتلِ دجّال ہے یعنی روحانی طور پر تو بموجب حدیث من قتل قتیلاً کے جو کچھ دجّال کا ہے وہ مسیح کا ہے۔ علاوہ اس کے مسلم کی حدیث میں جو ابوہریرہ سے مروی ہے عیسیٰ کے آنے کی یہ نشانیاں لکھی ہیں لینزلن ابن مریم حکمًا عدلًا فلیکسرن الصلیب ولیقتلن الخنزیر ولیضعن الجزیۃ ولیترکن القلاص فلا یسعٰی علیھایعنی عیسیٰ حَکَم اورعدل ہونے کی حالت میں اُترے گا اس طرح پر کہ مسلمانوں کے اختلافات پر حق کے ساتھ حکم کرے گا او ر عدل کو زمین پر قائم کر دے گا صلیب کو توڑے گا خنزیروں کو قتل کرے گا اور جزیہ کو اُٹھا دے گا اور اس کے آنے کا ایک یہ نشان ہو گا