اس خرقہ کی توہین ہوئی اور اس کی حُرمت آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ ہی کی طرف سے تھا میں صرف ایلچی تھا۔ تب میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دا ہنی طرف حضرت ابوبکر صدیق اور صحابہ اور بائیں طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیٹھے تھے اور سامنے آپ یعنی یہ عاجز کھڑا ہے اور ایک طرف مولوی محمد حسین کھڑا ہے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیان کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی یہ عادت ہوتی کہ وہ فوت شدہ لوگوں کو دوبارہ دنیا میں بھیجتا اور میں بھیجاجاتا تو مجھ سے بھی دنیا کے لوگ یونہی پیش آتے جیسا کہ ان کے ساتھ آئے (یعنی اس عاجز کے ساتھ ) پھر میاں صاحب مرحوم نے مجھے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ کے بالوں کو دیکھ۔تب میں نے اُن کے سر کے بالوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ سیدھے ہوگئے اور جب ہاتھ اُٹھایا تو کُنڈل پڑ گئے۔ پھرمیاں صاحب نے فرمایا کہ دیکھو ان کی آنکھوؔ ں کی طرف۔ جب میں نے دیکھا تو آنکھیں شربتی تھیں اور رنگ نہایت سفید جو نہیں دیکھاجاتاتھا۔ پھر میاں صاحب نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا یہی حُلیہ ہے مگر وہ مسیح موعود جس کے آنے کا وعدہ تھا اُس کا حُلیہ وہی ہے جو تم دیکھتے ہو اور آپ کی طرف اشارہ کیا یعنی اس عاجز کی طرف۔پھر مَیں بیدار ہوگیا اور دل پر اس رؤیا کا اثر تار برقی کی طرح پایا۔
(۳) تیسری یہ کہ حبّی فی اللّٰہ میاں عبدالحکیم خاں صاحب اپنے رسالہ ذکر الحکیم کے صفحہ ۳۸ میں لکھتے ہیں کہ میں ماہ ستمبر ۱۸۹۰ ء میں بموقعہ تعطیلات موسمی تراوڑ ی میں مقیم تھا۔ اُس جگہ میں نے متواتر تین یا چار دفعہ عیسیٰ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں نے خواب میں سُنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے ہیں میں یہ خبر سُنکر حضرت مسیح علیہ السلام کی زیارت کیواسطے چلا۔ جب آپکی محفل میں پہنچا تو میں نے سب پر سلام کہا اورپوچھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کس جگہ تشریف رکھتے ہیں وہاں مرزا یوسف بیگ صاحب سامانوی جو مرزا صاحب کے مریدوں میں سے ہیں موجود تھے انہوں نے مجھے بتلایامیں ادب سے مسیح علیہ السلام کی طرف چلا۔مگر جب دوبارہ نظر اُٹھاکر دیکھا