ایک ہی صورت کے دو امر دو متناقض معنوں پر محمول ہوسکیں یہ بات اہل الرائے کے غور کے قابل ہے کہ اگر حضرت مسیح کی وہ تاویل جو انہوں نے یوحنا کے آسمان سے اترنے کی نسبت کی ہے فی الواقع صحیح ہے تو کیا حضرت مسیح کے نزول کے مقدمہ میں جو اسی پہلے مقدمہ کا ہم شکل ہے اسی تاویل کو کام میں نہیں لانا چاہیئے ۔جس حالت میں ایک نبی اس سربستہ راز کی اصل حقیقت کو کھول چکا ہے اور قانون قدرت بھی اُسی کو چاہتا اور اُسی کو مانتا ہے تو پھر اس صاف اور سیدھی راہ کوچھوڑ کر ایک پیچیدہ اور قابل اعتراض راہ اپنی طرف سے کھودنا کیوں کر قبول کرنے کے لائق ٹھہر سکتا ہےکیاذِی علم اور ایماندار لوگوں کا کانشنس جس کو مسیح کے بیان سے بھی پوری پوری مدد مل گئی ہے کسی اور طرف اپنا رُخ کر سکتا ہے اور مسیحی لوگ تو اس وقت سے دس برس پہلے اپنی یہ پیشگوئی بھی انگریزی اخباروں کے ذریعہ سے شائع کر چکے ہیں کہ تین برس تک مسیح آسمان سے اترنے والا ہے۔اب جو خدائے تعالیٰ نے اُس اُترنے والے کا نشان دیا تو مسیحیوں پرلازم ہے کہ سب سے پہلے وہی اس کو قبول کریں تااپنی پیشگوئی کے آپ ہی مکذب نہ ٹھہریں گے۔ عیسائی لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ حضرت مسیح اٹھائے جانے کے بعد بہشت میں داخل ہو گئے۔ لوکا کی انجیل میں خود حضرت مسیح ایک چور کو تسلّی دے کر کہتے ہیں کہ ”آج تو میرے ساتھ بہشت میں داخل ہوگا۔“ ۱ ا ور عیسائیوں کا یہ عقیدہ بھی متفق علیہ ہے کہ کوئی شخص بہشت میں داخل ہو کر پھر اس سے نکالانہیں جائے گا گو کیسا ہی ادنیٰ درجہ کا آدمی ہوچنانچہ یہی عقیدہ مسلمانوں کا بھی ہے۔ اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ یعنی جو لوگ بہشت میں داخل کئے جائیں گے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے ا ورقرآن شریف میں اگرچہ حضرت مسیح کے بہشت میں داخل ہونے کا بہ تصریح کہیں ذکر نہیں لیکن ان کے وفات پا جانے کا تین جگہ ذکر ہے ۲ اور مقدس بندوں کے لئے وفات پانا اور بہشت میں داخل ہونا ایک ہی حکم میں ہے یکھو انجیل لوقا باب ۳۲ آیت ۳۴ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ دیکھو سورة مائدہ الجزو نمبر ۷ وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ‌ۚ سو رة النساءالجزو نمبر ۶ اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰىۤ اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ سورة آل عمران الجزو نمبر ۳