چونکہ مولوی صاحب موصوف کی حدیث اور تفسیرپر نظر وسیع ہے اس لئے انہوں نے محدثین کی طرز پر نہایت خوبی اور متانت سے اس رسالہ کو انجام دیا ہے۔ مخالف الرائے مولوی صاحبان جن کو غور اور فکر کرنے کی عادت نہیں اور جو آنکھ بند کر کے فتوے پر فتوے لکھ رہے ہیں انہیں مناسب ہے کہ علاوہ اس عاجز کی کتاب ازالہ اوہام کے میرے دوست عزیز مولوی محمد مبارک علی صاحب کے رسالہ کو بھی دیکھیں اور نیز میرے دوست رفیق مولوی محمد احسن صاحب امروہوی کے رسالہ اعلام الناس کو بھی ذرہ غور سے پڑھیں اور خدائے تعالیٰ کی ہدایت سے نومید نہ ہوں گو ان کی حالت بہت خطرناک اور قریب قریب یا س کے ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہر یک چیز پر قادر ہے۔ مولویوں کا حجاب کفار کے ؔ حجاب سے کچھ زیادہ نہیں پھر کیوں اس سرچشمہ رحمت سے نومید ہوتے ہیں۔ وھو علٰی کلِّ شی ءٍ قدیر۔ (۳۹) حبّی فی اللّٰہ مولوی محمد تفضل حسین صاحب مولوی صاحب ممدوح میرے ساتھ سچے دل سے اخلاص اور محبت رکھتے ہیں میں نے اُن کے دل کی طرف توجہ کی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت نیک فطرت آدمی اور سعیدوں میں سے ہیں اور قابل ترقی مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اگر وہ بشریت کی کمزوری کی وجہ سے کسی خلجان میں پڑ یں تو میں امید نہیں رکھتا کہ اسی میں وہ بند رہ جائیں۔ کیونکہ اُن کی طینت صاف اور فراست ایمانی اور اسلامی نور کا اُن کو حصہ ہے اور کسی امر کے مشتبہ ہونے کے وقت قوت فیصلہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور اس لائق ہیں کہ اگر وہ کچھ عرصہ صحبت میں رہیں تو علمی اور عملی طریقوں میں بہت ترقی کر جائیں۔ مولوی صاحب موصوف ایک بزرگ عارف باللہ کے خلف رشید ہیں اور پدری نور اپنے اندر مخفی رکھتے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ کسی وقت وہ روحانیت اُن پر غالب ہوجائے۔ یہ عاجز جبؔ علی گڑھ میں گیا تھا تو درحقیقت مولوی صاحب ہی میرے جانے کے باعث ہوئے تھے اور اس قدرانہوں نے خدمت کی کہ میں اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ اس سلسلہ کے چندہ میں بھی انہوں نے دو روپیہ ماہواری مقرر