پڑا ہے۔ اگر دولت مند لوگ کسی پر احسان نہ کریں صرف فریضہ زکوٰۃ کے ادا کرنے کی طرف متوجہ ہوں تاہم ہزار ہا روپیہ اسلامی اور قومی ہمدردی کے لئے جمع ہوسکتاہے۔ لیکن مال بخیل آنگاہ از خاک برآید کہ بخیل درخاک رود۔
(۳۶) حبّی فی اللّٰہ میراں بخش ولد بہادر خان کیروی ایک مخلص اور پختہ اعتقاد آدمی ہے اس کے زیادت اعتقاد کا موجب اس نے یہ بیان کیا کہ ایک مجذوب نے اس کو خبر دی تھی کہ عیسیٰ جو آنے والا تھا وہ یہی ہے۔ یعنی یہ عاجز۔ اور یہ خبر اس عاجز کے اظہار دعویٰ سے کئی سال پیشتر وہ سُن چکا تھا اور صد ہا آدمیوؔ ں میں شہرت پا چکے تھے۔
(۳۷) حبّی فی اللّٰہ حافظ نور احمد صاحب لدھیانوی۔ حافظ صاحب جوان صالح بڑے محب اورمخلص اور اوّل درجہ کا اعتقاد رکھنے والے ہیں۔ ہمیشہ اپنے مال سے خدمت کرتے رہتے ہیں۔ جزاہم اللّٰہ خیرالجزاء۔
(۳۸)حبّی فی اللّٰہ مولوی محمد مبارک علی صاحب۔ یہ مولوی صاحب اس عاجز کے اُستاد زادہ ہیں۔ ان کے والد صاحب حضرت مولوی فضل احمد صاحب مرحوم ایک بزرگوار عالم باعمل تھے مجھ کو اُن سے از حد محبت تھی۔ کیونکہ علاوہ اُستاد ہونے کے وہ ایک باخدا اور صاف باطن اور زندہ دل اور متّقی اور پرہیزگار تھے۔ عین نماز کی حالت میں ہی اپنے محبوب حقیقی کو جاملے۔ اور چونکہ نماز کی حالت میں ایک تبتّل اور انقطاع کا وقت ہوتا ہے اس لئے اُن کا واقعہ ایک قابل رشک واقعہ ہے۔ خدائے تعالیٰ ایسی موت سب مومنوں کے لئے نصیب کرے۔ مولوی مبارک علی صاحب اُن کے خلف رشید اور فرزند کلاں ہیں۔ سیرت اور صورت میں حضرت مولوی صاحب مرحومؔ سے بہت مشابہ ہیں۔اس عاجز کے یکرنگ اور پُر جوش دوست ہیں اور اس راہ میں ہر یک قسم کے ابتلاء کی برداشت کر رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی وفات کے بارے میں ایک رسالہ انہوں نے تالیف کیا ہے جو چھپ کر شائع ہوگیا ہے جس کا نام قول جمیل ہے۔ اس عاجز کا ذکر بھی اس میں کئی جگہ کیا گیا ہے