اور کیوں کر دعاؤں کے قبول ہونے سے خارق عادت نشان ظہور میں آئے۔ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پوری کے ابتلاء اور نزول بلاکی خبر جو پورے چھ مہینہ پہلے شیخ صاحب کو بذریعہ خط دی گئی تھی اور پھر اُنکے انجام بخیر ہونے کی بشارت جو حکم سزائے موت کی حالت میںؔ اُن کو پہنچائی گئی تھی۔ یہ سب باتیں حامد علی کی چشم دید ہیں۔ بلکہ اس پیشگوئی پر بعض نادان اس سے لڑتے اور جھگڑتے رہے کہ اس کا پور اہونا غیر ممکن ہے۔ ایسا ہی دلیپ سنگھ کے روکے جانے کی پیشگوئی اور کئی دوسری پیشگوئیاں اور نشان جو صبح صادق کی طرح ظاہر ہوگئیں اس شخص کو معلوم ہیں جن کا خدائے تعالیٰ نے اس کو گواہ بنا دیا ہے۔ ا ور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس کو نشان دکھائے گئے وہ ایک طالب حق کا ایمان مضبوط کرنے کے لئے ایسے کافی ہیں کہ اس سے بڑھ کر حاجت نہیں۔ حامد علی بے شک ایک مخلص ہے مگر فطرتی طورپر اشتعال طبع اس میں زیادہ پایاجاتا ہے۔ صبر اور ضبط کی عادت ابھی اس میں کم ہے۔ ایک غریب اورادنیٰ مزدورکی سخت بات پر برداشت کرنا ہنوز اس کی طاقت سے باہر ہے۔ غصّہ کے وقت کسی قدر جبائرہ کا رگ وریشہ نمودار ہوجاتا ہے۔ کاہلی اور کسل بھی بہت ہے مگر متدین اور متقی اور وفادار ہے۔ خدائے تعالیٰ اس کی کمزوری کو دورکرے۔ آمین۔ حامد علی صرف تین روپے مجھ سے تنخواہ پاتا ہے اور اس میں سے اس سلسلہ کے چندہ کے لئے ۴؍ بطیب خاطر محض للّہی شوق سے ادا کرتا ہے اور حبّی فی اللّٰہ شیخ چراغ علی چچا اس ؔ کا اس کی تمام خوبیوں میں اس کا شریک ہے اور یکرنگ اور بہادرہے۔
(۳۵) حبّی فی اللّٰہ شیخ شہاب الدین موحد شیخ شہاب الدین غریب طبع اور مخلص اور نیک خیال آدمی ہے۔ نہایت تنگدستی اور عُسر سے اس مسافرخانہ کے دن پورے کر رہا ہے۔ افسوس کہ اکثر دولت مند مسلمانوں نے زکوٰۃ دینا بھی چھوڑ دیا اور شریعت اسلامی کا یہ پُرحکمت مسئلہ کہ یؤخذ من الاغنیاء ویردّ الی الفقراء یونہی معطّل