بیمار ہیں خدا تعالیٰ اُن کو جلد شفا بخشے۔آمین ثم آمین۔ (۳۳) حبی فی اللّٰہ مولوی غلام حسن صاحب پشاوری اس وؔ قت لودھیانہ میں میرے پاس موجود ہیں۔ محض ملاقات کی غرض سے پشاور سے تشریف لائے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ وفادار مخلص ہیں اور لَایَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَاءِمٍ میں داخل ہیں جوش ہمدردی کی راہ سے 3دو روپیہ ماہواری چندہ دیتے ہیں مجھے امید ہے کہ وہ بہت جلد للہی راہوں اور دینی معارف میں ترقی کریں گے کیونکہ فطرت نورانی رکھتے ہیں۔ (۳۴) حبّی فی اللّٰہ شیخ حامد علی۔ یہ جوان صالح اور ایک صالح خاندان کا ہے اور قریبًا سات آٹھ سال سے میری خدمت میں ہے اور میں یقینًا جانتا ہوں کہ مجھ سے اخلاص اور محبت رکھتا ہے۔ اگرچہ دقائق تقویٰ تک پہنچنا بڑے عرفاء اور صلحاء کا کام ہے۔ مگر جہاں تک سمجھ ہے اتباع سُنّت اور رعایت تقوےٰ میں مصروف ہے۔ میں نے اس کو دیکھا ہے کہ ایسی بیماری میں جو نہایت شدید اور مرض الموت معلوم ہوتی تھی اور ضعف اور لاغری سے میّت کی طرح ہو گیا تھا۔ التزام ادائے نماز پنجگانہ میں ایسا سرگرم تھا کہ اس بے ہوشی اور نازک حالت میں جس طرح بن پڑے نماز پڑھ لیتاؔ تھا۔ میں جانتا ہوں کہ انسان کی خداترسی کا اندازہ کرنے کے لئے اس کے التزام نماز کو دیکھنا کافی ہے کہ کس قدر ہے اور مجھے یقین ہے کہ جو شخص پورے پورے اہتمام سے نماز ادا کرتاہے اور خوف اور بیماری اور فتنہ کی حالتیں اس کو نماز سے روک نہیں سکتیں وہ بے شک خدائے تعالیٰ پر ایک سچا ایمان رکھتا ہے مگریہ ایمان غریبوں کو دیا گیا دولتمند اس نعمت کو پانے والے بہت ہی تھوڑے ہیں۔ شیخ حامد علی نے خدائے تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس عاجز کے کئی نشان دیکھے ہیں اورچونکہ وہ سفر وحضر میں ہمیشہ میرے ساتھ ہی رہتا ہے اس لئے خدائے تعالیٰ اس کے لئے ایسے اسباب پیدا کرتا رہااور وہ اپنی آنکھ سے دیکھتا رہا کہ کیوں کر خدائے تعالیٰ کی عنایتیں اس طرف رجوع کررہی ہیں