تو انفصال پاگیا اور دوبارہ اُترنے کی حقیقت اور کیفیت معلوم ہوگئی چنانچہ تمام عیسائیوں کا متفق علیہ عقیدہ جو انجیل کے رو سے ہونا چاہیئے یہی ہے کہ یوحنّا جس کے آسمان سے اُترنے کا انتظار تھا وہ حضرت مسیح کے وقت میں آسمان سے اِس طرح پر اتر آیا کہ زکریا کے گھر میں اُسی طبع اور خاصیّت کا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام یحییٰ تھا۔ البتہ یہودی اُس کے اُترنے کے اب تک منتظر ہیں اُن کا بیان ہے کہ وہ سچ مچ آسمان سے اترے گا۔ اوّل بیت المقدس کے مناروںپر اس کا نزول ہوگا پھر وہاں سے یہودی لوگ اکٹھے ہو کر اس کو کسی نردبان وغیرہ کے ذریعہ سے نیچے اتار لیں گے اور جب یہودیوں کے سامنے وہ تاویل پیش کی جائے جو حضرت مسیح علیہ السلام نے یوحنا کے اترنے کے بارہ میں کی ہے تو وہ فی الفور غصّہ سے بھر کر حضرت مسیح اور ایسے ہی حضرت یحییٰ کے حق میں ناگفتنی باتیں سناتے ہیں اور اس نبی کے فرمودہ کو ایک ملحدانہ خیال تصور کرتے ہیں بہرحال آسمان سے اترنے کا لفظ جو تاویل رکھتا ہے مسیح کے بیان سے اس کی حقیقت ظاہر ہوئی اور انہی کے بیان سے یوحنا کے آ سمان سے اُترنے کا جھگڑا طے ہوا اور یہ بات کھل گئی کہ آخر اترے تو کس طرح اترے مگر مسیح کے اترنے کے بارہ میں اب تک بڑے جوش سے بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عمدہ اور شاہانہ پوشاک قیمتی پارچات کی پہنے ہوئے٭فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اتریں گے۔مگر ان دو قوموں کا اس پر اتفاق نہیں کہ کہاں اتریں گے۔ آیا مکّہ معظمہ میں یا لنڈن کےکسی گرجا میں یا ماسکو کے شاہی کلیسیا میں۔ اگر عیسائیوں کو پرانے خیالات کی تقلید رہزن نہ ہو تو وہ مسلمانوں کی نسبت بہت جلد سمجھ سکتے ہیں کہ مسیح کا اترنا اُسی تشریح کے موافق چاہیئے جو خود حضرت مسیح کے بیان سے صاف لفظوں میں معلوم ہو چکی ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ یہ پارچات از قسم پشمینہ یا ابریشم ہوں گے ؟ جیسے چوڑیا ۔ گلبدن ۔ اطلس ۔ کمخواب ۔ زربفت ۔ زری ۔ لاہی یا معمولی سوتی کپڑے جیسے نین سوکھ ۔ تن زیب ۔اینگ۔ چکن ۔ گلشن ۔ ململ ۔ جالی ۔ خاصہ ڈوریا چار خانہ اور کس نے آسمان میں بُنے اور کس نے سیئے ہونگے ۔ ابتک کسی نے مسلمانوں یا عیسائیوں میں سے اس کا کچھ پتہ نہیں دیا۔ منہ