(۲۸) حبّی فی اللّٰہ بابو کرم الٰہی صاحب ریکارڈ کلرک راجپورہ ریاست پٹیالہ۔ بابو صاحب متانت شعار مخلص آدمی ہیں وہ اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ آپ کے رسالوں کے پڑھنے کے بعد بعض علماء طرح طرح کے توہمات میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ مگر الحمد للہ میرے دل میں ایک ذرّہ بھی شک راہ نہیں پایا۔ سو میں اس کا شکر یہ ادا نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ایسے طوفان کے وقت میں شکوک اور شبہات سے بچنا بشر کے اختیار میں نہیں۔ میری تنخواہ بہت کم ہے۔ مگر تاہم کم سے کم ایک روپیہ ماہواری آپ کے سلسلہ کی امداد کے لئے بھیجا کرونگا۔ کیونکہ تھوڑی خدمت میں بھی شریک ہوجانا بکلی محروم رہنے سے بہتر ہے۔ فقط۔سو بابو صاحب نہایت اخلاص اور محبت سے ایک روپیہ ماہواری بھیجتے رہتے ہیں۔جزاہم اللّٰہ خیرالجزاء۔
(۲۹) حبّی فی اللّٰہ مولوی عبد القادرجمالپوری۔ مولوی عبد القادر۔ جوان صالح۔متقی مستقیم الاحوال ہے۔ اس ابتلا کے وقت جو علماء میں بباعث نافہمی اور غلبہ سوء ظن ایک طوفان کی طرح اُٹھا مولوؔ ی عبد القادر صاحب کی بہت استقامت ظاہر ہوئی اور اوّل المومنین میں وہ داخل رہے بلکہ دعوت حق کرتے رہے۔ ان کا گذارہ ایک تھوڑی سی تنخواہ پر ہے تاہم اس سلسلہ کی امداد کے لئے ۲؍ ۶ پائی وہ ماہواری دیتے ہیں۔
(۳۰) حبّی فی اللّٰہ محمد ابن احمد مکّی من حارہ شعب عامر۔ یہ صاحب عربی ہیں اور خاص مکّہ معظمہ کے رہنے والے ہیں۔ صلاحیت اور رشد اورسعادت کے آثار اُن کے چہرہ پر ظاہر ہیں اپنے وطن خاص مکہ معظمہ سے زادہ اللّٰہ مجدًا و شرفًا بطور سیر و سیاحت اس ملک میں آئے اور ان دنوں میں بعض بداندیش لوگوں نے خلاف واقعہ باتیں بلکہ تہمتیں اپنی طرف سے اس عاجز کی نسبت اُن کو سنائیں اور کہا کہ یہ شخص رسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورقرآن کریم سے منکر ہے اور کہتا ہے کہ مسیح جس پر انجیل نازل ہوئی تھی وہ اللّٰہمیں ہی ہوں۔ ان باتوں سے عربی صاحب کے دل میں بہ مقتضائے غیرت اسلامی ایک اشتعال پیدا ہوا تب انہوں نے عربی زبان میں اس عاجز کی طرف ایک خط لکھا جس میں یہ فقرات بھیؔ درج تھے