(۲۵) حبّی فی اللہ میاں عبدالحق خلف عبد السمیع۔ یہ ایک اول درجہ کامخلص او ر سچا ہمدرد اور محض للہ محبت رکھنے والا دوست اور غریب مزاج ہے۔ دین کو ابتداء سے غریبوں سے مناسبت ہے کیونکہ غریب لوگ تکبّر نہیں کرتے اور پوری پوری تواضع کے ساتھ حق کو قبول کرتے ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دولت مندوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں کہ اس سعادت کا عشر بھی حاصل کر سکیں جس کو غریب لوگ کامل طورپر حاصل کر لیتے ہیں۔ فطوبٰی للغرباء۔ میاں عبدالحق باوجود اپنے افلاس اورکمی مقدرت کے ایک عاشق صادق کی طرح محض للہ خدمت کرتا رہتا ہے اور اس کی یہ خدمات اس آیت کا مصداق اس کو ٹھہرا رہی ہیں۔33 ۱؂۔ (۲۶ؔ ) حبّی فی اللّٰہ شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی۔ شیخ رحمت اللہ جوان صالح یکرنگ آدمی ہے۔ اِن میں فطرتی طور پر مادہ اطاعت اور اخلاص اور حسن ظن اس قدر ہے جس کی برکت سے وہ بہت سی ترقیات اس راہ میں کر سکتے ہیں۔ اُن کے مزاج میں غربت اور ادب بھی از حد ہے اور اُن کے بشرہ سے علامات سعادت ظاہرہیں۔ حتی الوسع وہ خدمات میں لگے رہتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ کشاکش مکروہات سے انہیں بچاکر اپنی محبت کی حلاوت سے حصہ وافر بخشے۔ آمین ثم آمین۔ (۲۷) حبّی فی اللّٰہ میاں عبد الحکیم خاں جوان صالح ہے۔ علامات رشد وسعادت اُس کے چہرہ سے نمایاں ہیں۔ زیرک اور فہیم آدمی ہے۔ انگریزی زبان میں عمدہ مہارت رکھتے ہیں میں امید رکھتاہوں کہ خدائے تعالیٰ کئی خدمات اسلام اُن کے ہاتھ سے پوری کرے۔ وہ باوجود زمانہ طالب علمی اور تفرقہ کی حالت کے ایک روپیہ ماہواری بطور چندہ اس سلسلہ کے لئے دیتے ہیں اور ایسا ہی اُن کا دوست رشید خلیفہ رشید الدین صاحب جو ایک اہل آدمی اور اُنہیں کے ہمرنگ ہیں اسی قدر چندہ محض للّہی محبت کے جوش سے ماہ بماہ ادا کرتے ہیں۔ جزاؔ ہم اللّٰہ خیرالجزاء۔