غالب ہے۔ کسی کے راستباز ثابت ہونے سے وہ جان تک بھی فرق نہیں کر سکتے اور کسی کو ناراستی پر دیکھ کر اُس سے مداہنت کے طورپر کچھ تعلق رکھنا نہیں چاہتے۔ اوائل میں وہ اس عاجزکی نسبت نہایت نیک گمان تھے مگر درمیان میں ابتلا کے طور پر اُن کے حُسن ظن میں فرق آگیا۔ چونکہ سعید تھے اس لئے عنایت الٰہی نے پھر دستگیری کی اور اپنے خیالات سے توبہ کر کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے۔ اُن کا یک دفعہ نیک ظنّی کی طرفؔ پلٹاکھانا اور جوش سے بھرے ہوئے اخلاص کے ساتھ حق کو قبول کر لینا غیبی جذبہ سے معلوم ہوتاہے۔ وہ اپنے اشتہار ۱۲ ؍اپریل ۱۸۹۱ ؁ء میں اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ میں اُن کے حق میں بدگمان تھا لہٰذا وقتًا فوقتًا نفس و شیطان نے خداجانے کیا کیا مجھ سے اُن کے حق میں کہوا یاجس پر آج مجھ کو افسوس ہے اگرچہ اس عرصہ میں کئی بار میرے دل نے مجھے شرمندہ کیا لیکن اس کے اظہار کا یہ وقت مقدّر تھا۔ میں نے جو کچھ مرزا صاحب کو فقط اپنی غلط فہمیوں کے سبب سے کہا نہایت بُراکیا۔ اب میں توبہ کرتا ہوں او راس توبہ کا اعلان اس لئے دیتا ہوں کہ میری پیروی کے سبب سے کوئی وبال میں نہ پڑے۔ اس سے بعد اگر کوئی شخص میری کسی تحریر یا تقریر کو چھپوا دے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو میں عند اللہ بری ہوں اور اگر کبھی میں نے مرزا صاحب کی نسبت اپنے کسی دوست سے کچھ کہا ہو یا شکایت کی ہوتو اس سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں معافی مانگتا ہوں۔ (۲۴) حبّی فی اللہ منشی رستم علی ڈپٹی انسپکٹر پولیس ریلوے۔ یہ ایک جوان صالح اخلاص سے بھر ا ہوا میرے اوّل درجہ کے دوستوں سےؔ ہے۔ اُن کے چہرے پر ہی علامات غربت و بے نفسی واخلاص ظاہرہیں۔ کسی ابتلاء کے وقت میں نے اس دوست کو متزلزل نہیں پایا۔ اور جس روز سے ارادت کے ساتھ انہوں نے میری طرف رجوع کیا اس ارادت میں قبض اور افسردگی نہیں بلکہ روز افزوں ہے۔ وہ 3دو روپیہ چندہ اس سلسلہ کے لئے دیتے ہیں۔ جزاہم اللہ خیرالجزاء۔