میری طرف لمبا کر دیا۔ میں نے حضرت کے قدم مبارک کو بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا اُس وقت حضرت نے ایک جوراب سُوتی اپنے پاک۱؂ مبارک سے اُتار کر مجھ کو عنایت فرمائی۔ اس رؤیا صادقہ سے میں بہت متلذذ رہاؔ ۔ پھر دو برس کے بعد ایسااتفاق ہوا کہ میں لودھیانہ میں آیااور میں نے آپ کا یعنی اس عاجز کا شہرہ سُنا اور رات کو آپ کی خدمت میں حاضرہوا اور وہی جلسہ دیکھا اور وہی کثرت مخلوق دیکھی جو میں نے حضرت نبی کریم کی خواب میں دیکھی تھی۔ اور جب میں نے آپ کی صورت دیکھی تو کیادیکھتا ہوں کہ وہی صورت ہے کہ جس صورت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ تب مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے آپ ہی کو خواب میں دیکھا تھا اور خدائے تعالیٰ نے آپ کو نبی کریم کے پیرایہ میں میرے پر ظاہر کیا۔ تا وہ عینیّت جو ببرکت متابعت پیدا ہوجاتی ہے میرے پر منکشف ہوجائے۔ پھر جب میں پانچ چھ ماہ کے بعد آپ کو قادیان میں ملا تو میری حالت اعتقاد بہت ترقی کر گئی اور مجھ کو کامل و مکمل یقین کہ عین الیقین کا مرتبہ حاصل ہوگیا کہ بلا شبہ آپ مجدد الوقت اور غوث الوقت ہیں اور میرے پر پورے عرفا ن کے ساتھ کھل گیاکہ میرے خواب کے مصداق آپ ہی ہیں۔ پھر اس کے بعد اَور بھی حالات نوم اور غیر نوم میں میرے پر کھلتے رہے۔ ایک دفعہ استخارہ کے وقت آپکی نسبت یہ آیت نکلی33۲؂۔ تب میں بیعت سے بصدق دل مشرفؔ ہوا اور وہ حالات جو میرے پرکھلے اور میرے دیکھنے میں آئے وہ انشاء اللہ ایک رسالہ میں لکھونگا۔ (۲۳) حبّی فی اللہ میر ناصر نواب صاحب۔ میر صاب موصوف علاوہ رشتہ روحانی کے رشتہ جسمانی بھی اس عاجز سے رکھتے ہیں کہ اس عاجز کے خسر ہیں۔ نہایت یکرنگ اور صاف باطن اور خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول کی اتباع کو سب چیزسے مقدّم سمجھتے ہیں اور کسی سچائی کے کھلنے سے پھراسکو شجاعت قلبی کے ساتھ بلا توقف قبول کر لیتے ہیں۔ حُب ِ للہ اور بُغض ِ للہ کا مومنانہ شیو ہ اُن پر