(۲۲ؔ ) حبّی فی اللہ صاحبزادہ سراج الحق صاحب ابو اللمعان محمد سراج الحق جمالی نعمانی ابن شاہ حبیب الرحمٰن ساکن سرساوہ ضلع سہارنپور از اولاد قطب الاقطاب شیخ جمال الدین احمد ہانسوی اکابر مخلصین اس عاجز سے ہیں۔ صاف باطن یکرنگ اور للّہی کاموں میں جوش رکھنے والے اور اعلائے کلمۂ حق کے لئے بدل وجان ساعی وسرگر م ہیں۔ اس سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے خدائے تعالیٰ نے جوان کے لئے تقریب پیدا کی وہ ایک دلچسپ حال ہے جو ان کے ایک خط سے ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ میں اس زمانہ کو ایک آخری زمانہ سمجھ کر اور علماء اور فقراء سے ظہور حضرت مسیح ابن مریم موعود اور حضرت مہدی کی بشارتیں سُنکر ہمیشہ دعاکیا کرتا تھا کہ خداوند کریم مجھ کو ان میں سے کسی کی زیارت کرا دے خواہ حالت جوانی میں ہی یاضعیفی میں۔ سو جب میری دعائیں انتہاء کوپہنچیں تو اُن کا یہ اثر ہوا کہ مجھے عالم رؤیا میں وقتًا فوقتًا مقصد مذکورہ بالا کے لئے کچھ کچھ بشارتیں معلوم ہونے لگیں۔چنانچہ ایک دفعہ میں سفر کی حالت میں شہر جیند میں تھا تو عالم رؤیا میں کیادیکھتا ہوں کہ میں ایک مسجدمیںؔ وضو کر رہا ہوں اور اس مسجد کے متصل ایک کوچہ ہے وہاں سے ہر قسم کے آدمی ہندو مسلمان نصاریٰ آتے جاتے ہیں میں نے پوچھاکہ تم لوگ کہاں سے آتے ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم حضرت رسولؐ مقبول کی خدمت میں گئے تھے۔ تب میں نے بھی جلد وضو کرکے اس کوچہ کی راہ لی۔ ایک مکان میں دیکھا کہ کثرت سے آدمی موجود ہیں اور حضرت رسول مقبول خاتم الانبیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں۔سفید پوشاک پہنے ہوئے اور ایک شخص دو زانو اُنکے سامنے با ادب بیٹھاہے۔ میں نے پوچھنا چاہا کہ مرشد کے قدم چومنے میں علماء اور فقراء کو اختلاف ہے۔ اصل کیا بات ہے۔ تب ایک شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھاتھا خود بخود بول اُٹھا کہ نہیں نہیں۔ اس وقت میں بے تکلّف اُٹھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جا بیٹھا۔ تب حضرت نبی کریم ؐ نے مجھ کو دیکھا اور اپنا داہنا پائے مبارک