اُن سے لذّت اُٹھاتا ہے۔ اللہ اور رسول سے سچی محبت رکھتا ہے اور ادب جس پر تمام مدار حصول فیض کا ہے اور حُسن ظن جو اس راہ کا مرکب ہے دونوں سیرتیں ان میں پائی جاتی ہیں۔ جزاہم اللہ خیرالجزاء۔
(۱۹) حبّی فی اللہ سیّد عبد الہادی صاحب سب اور سیر۔ یہ سیّد صاحب انکسار اور ایمان اور حُسن ظن اور ایثار اور سخاوت کی صفت میں حصہ وافر رکھتے ہیں۔وفادار اور متانت شعار ہیں۔ ابتلا کے وقت استقامت کوہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ وعدہ اورعہد میں پختہ ہیں۔ حیا کی قابل تعریف صفت اُن پر غالب ہے۔ اس عاجز کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے سے پہلے بھی وہی ادب ملحوظ رکھتے تھے جو اَب ہے۔ اللہ جلّشانہ‘کا اُن پر یہ خاص احسان ہے کہ وہ نیک کاموں کے کرنے کے لئے منجانب اللہ توفیقؔ پاتے ہیں۔ ان کی طبیعت فقر کے مناسب حال ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ کے لئے 3دو روپے ماہواری چندہ مقررکیا ہے۔ مگر اس چندہ پر کچھ موقوف نہیں وہ بڑی سرگرمی سے خدمت کرتے رہتے ہیں اور اُن کی مالی خدمات کی اس جگہ تصریح مناسب نہیں کیونکہ میں خیال کرتا ہوں کہ ان کی مالی خدمات کے اظہار سے ان کو رنج ہوگا۔ وجہ یہ کہ وہ اس سے بہت پرہیز کرتے ہیں کہ اُن کے اعمال میں کوئی شعبہ ریا کا دخل کرے اوران کو یہ وہم ہے کہ اجر کسی عمل کا اس کے اظہارسے ضائع ہوجاتا ہے۔
(۲۰) حبّی فی اللہ مولوی محمد یوسف سنوری میاں عبد اللہ صاحب سنور ی کے ماموں ہیں۔ بہت راست طبع نیک ظن پاک خیال آدمی ہیں۔ اس عاجز سے استقلال اور وفا کے ساتھ خلوص اورمحبت رکھتے ہیں۔
(۲۱) منشی حشمت اللہ صاحب مدرس مدرسہ سنور اور منشی ہاشم علی صاحب پٹواری تحصیل برنالہ اس عاجز کے یکرنگ مخلصین میں سے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کامددگار ہو۔