نہیں کرتے۔ او راگرچہ وہ پہلے ہی سے مخلص باصفاہیں لیکن میں دیکھتاہوں کہ اب وہ زیادہ تر قریب کھینچے گئے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ حقانیت کی روشنی ایک بے غرضانہ خلوص اور للّہی محبت میں دمبدم اُن کو ترقی دے رہی ہے اور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان ترقیات کی وجہ سے اپنے حُسن ظن کے حالات میں زیادہ سے زیادہ پاکیزگی حاصل کرتے جاتے ہیں اور روحانی کمزوری پر غالب ہوتے جاتے ہیں۔ میرا دل ان کی نسبت یہ بھی شہادت دیتا ہے کہ وہ دنیوی طورسے ایک صحیح اور باریک فراست رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کے فضل نے اس عاجز کی روحانی شناسائی کا بھی ایک قابل قدر حصہ انہیں بخشا ہے اور آداب ارادت میں وہ صفائی حاصل کرتے جاتے ہیں اور قلّت اعتراض اور حُسن ظن کی طرف ان کا قدم بڑھتاجاتا ہے اور میری دانست میں وہ ان مراحل کو طے کر چکے ہیں جن میں کسیؔ خطرناک لغزش کا اندیشہ ہے۔ (۱۲) حبّی فی اللہ مرزا محمد یوسف بیگ صاحب سامانوی۔ مرزا صاحب مرزا عظیم بیگ صاحب مرحوم کے حقیقی بھائی ہیں جن کا حال رسالہ فتح اسلام میں لکھا گیا ہے اور وہ تمام الفاظ اور اخلاص کے جو میں نے اخویم مرزا عظیم بیگ صاحب مغفور ومرحوم کے بارے میں فتح اسلام میں لکھے ہیں اُن سب کا مصداق میرزا محمدیوسف بیگ صاحب بھی ہیں۔ ان دونوں بزرگوار بھائیوں کی نسبت میں ہمیشہ حیران رہا کہ اخلاق اور محبت کے میدانوں میں زیادہ کس کو قرار دُوں۔ میرزا صاحب موصوف ایک اعلیٰ درجہ کی محبت اور اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور اعلیٰ درجہ کا حُسن ظن اس عاجز سے رکھتے ہیں اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے میں اُن کے خلوص کے مراتب بیان کر سکوں یہ کافی ہے کہ اشارہ کے طور پر میں اسی قدر کہوں کہ ھو رجل یحبّنا ونحبہ ونسئل اللّٰہ خیرہ فی الدنیا والاٰخرۃ۔ مرزا صاحب نے اپنی زبان اپنا مال اپنی عزت اس للّہی محبت میں وقف کر رکھی ہے اور اُن کا مریدانہ و محبانہ اعتقاد اس حد تک