بڑھاہوا ہے کہ اؔ ب ترقی کے لئے کوئی مرتبہ باقی نہیں معلوم ہوتا۔ و ذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشآء۔ (۱۳) حبّی فی اللہ میاں عبد اللہ سنوری۔ یہ جوان صالح اپنی فطرتی مناسبت کی وجہ سے میری طرف کھینچا گیا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ اُن وفادار دوستوں میں سے ہے جن پر کوئی ابتلا جنبش نہیں لا سکتا۔ وہ متفرق وقتوں میں دو دو تین تین ماہ تک بلکہ زیادہ بھی میری صحبت میں رہا اور میں ہمیشہ بنظر امعان اس کی اندرونی حالت پرنظر ڈالتا رہاہوں سو میری فراست نے اس کی تہ تک پہنچنے سے جو کچھ معلوم کیا وہ یہ ہے کہ یہ نوجوان درحقیقت اللہ اور رسول کی محبت میں ایک خاص جوش رکھتا ہے۔ اور میرے ساتھ اس کے اس قدر تعلق محبت کے بجُز اِس بات کے اورکوئی بھی وجہ نہیں جو اس کے دل میں یقین ہوگیا ہے کہ یہ شخص محبانِ خدا و رسو ل میں سے ہے۔ اور اس جوان نے بعض خوارق اور آسمانی نشان جو اس عاجز کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملے بچشم خود دیکھے ہیں جن کی وجہ سے اس کے ایمان کو بہت فائدہ پہنچا۔ الغرض میاں عبد اللہ نہایت عمدہ آدمی اور میرے منتخب ّ محبو ں میں سے ہےؔ اور باوجود تھوڑے سے گزارہ ملازمت پٹوار کے ہمیشہ حسب مقدرت اپنی خدمت مالی میں بھی حاضر ہے اور اب بھی 3بارہ روپیہ سالانہ چندہ کے طور پر مقرر کردیاہے۔ بہت بڑا موجب میاں عبداللہ کے زیادت خلوص ومحبت و اعتقاد کا یہ ہے کہ وہ اپنا خرچ بھی کر کے ایک عرصہ تک میری صحبت میں آ کر رہتا رہا اور کچھ آیات ربّانی دیکھتا رہا۔سو اس تقریب سے روحانی امور میں ترقی پاگیا۔کیااچھا ہو کہ میرے دوسرے مخلص بھی اس عادت کی پیروی کریں۔ (۱۴) حبّی فی اللہ مولوی حکیم غلام احمد صاحب انجینیئر ریاست جموں۔ مولوی صاحب موصوف نہایت سادہ وضع ‘یک رنگ ‘صاف باطن دوست ہیں اور عطر محبت اوراخلاص سے اُن کا دل معطّر ہے۔ دینی امدادات میں پورے پورے صدق سے حاضر ہیں۔ مولوی صاحب