نہایت عمدہ حصہ یہی ہے کہ میں آپ کی جماعت میں داخل ہوگیا ہوں۔ اور پھر کسر نفسی کے طورپر اپنے گذشتہ ایام کا شکوہ لکھا اور بہت سے رقّت آمیز ایسے کلمات لکھے جن سے رونا آتا تھا۔ اس دوست کا وہ آخری خط جو ایک دردناک بیان سے بھرا ہے اب تک موجود ہے مگر افسوس کہ حج بیت اللہ سے واپس آتے وقت پھر اس مخدوم پر بیماری کا ایسا غلبہ طاری ہوا کہ اس دور افتادہ کو ملاقات کا اتفاق نہ ہوا بلکہ چند روز کے بعد ہی وفات کی خبر سنی گئی اور خبر سنتے ہی ایک جماعت کے ساتھ قادیان میں نماز جنازہ پڑھی گئی۔ حاجی صاحب مرحوم اظہار حق میں بہادر آدمی تھے۔ بعض نافہمؔ لوگوں نے حاجی صاحب موصوف کو اس عاجز کے ساتھ تعلق ارادت رکھنے سے منع کیا کہ اس میں آپ کی کسر شان ہے لیکن انہوں نے فرمایا کہ مجھے کسی شان کی پروا نہیں اور نہ مریدوں کی حاجت۔ آپ کا صاحبزادہ کلاں حاجی افتخاراحمد صاحب آپ کے قدم پر اس عاجز سے کمال درجہ کا اخلاص رکھتے ہیں اور آثار رُشد وصلاح و تقوےٰ اُن کے چہرہ پر ظاہرہیں۔ وہ باوجود متوکّلانہ گذارہ کے اول درجہ کی خدمت کرتے ہیں اور دل وجان کے ساتھ اس راہ میں حاضر ہیں خدائے تعالیٰ ان کو ظاہری اور باطنی برکتوں سے متمتع کرے۔
(۱۱) حبّی فی اللہ قاضی خواجہ علی صاحب۔ قاضی صاحب موصوف ا س عاجز کے ایک منتخب دوستوں میں سے ہیں۔ محبت وخلوص ووفا و صدق وصفا کے آثار اُن کے چہرہ پر نمایاں ہیں۔ خدمت گذاری میں ہر وقت کھڑے ہیں۔ وہ اُن اوّلین سابقین میں سے ہیں جن میں سے اخویم میر عباس علی صاحب ہیں۔ وہ ہمیشہ خدمت میں لگے رہتے ہیں اور ایام سکونت لودھیانہ میں جو چھ چھ ماہ تک بھیؔ اتفاق ہوتا ہے ایک بڑا حصہ مہمانداری کا خوشی کے ساتھ وہ اپنے ذمّے لے لیتے ہیں اورجہاں تک اُن کے قبضۂ قدرت میں ہے وہ ہمدردی اور خدمت اور ہریک قسم کی غمخواری میں کسی بات سے فرق