سچے جوشوں کے ساتھ انہوں نے وفاداری دکھلائی اور میرے لئے ہریک قسم کی تکلیفیں اُٹھائیں اور قوم کے مُنہ سے ہر یک قسم کی باتیں سنُیں۔ میرصاحب نہایت عمدہ حالات کے آدمی اور اس عاجز سے روحانی تعلق رکھنے والے ہیں او راُن کے مرتبہ اخلاص کے ثابت کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو اُن کے حق میں الہام ہوا تھاؔ ؔ اصلہ ثابت وفرعہ فی السّمآء۔ وہ اس مسافر خانہ میں محض متوکّلانہ زندگی بسرکرتے ہیں۔ اپنے اوائل ایام میں وہ بیس برس تک انگریزی دفتر میں سرکاری ملازم رہے مگر بباعث غربت ودرویشی کے اُن کے چہرہ پر نظر ڈالنے سے ہرگز خیال نہیں آتا کہ وہ انگریزی خواں بھی ہیں۔ لیکن دراصل وہ بڑے لائق اور مستقیم الاحوال اور دقیق الفہم ہیں مگر باایں ہمہ سادہ بہت ہیں۔ اسی وجہ سے بعض موسوسین کے وساوس اُن کے دل کو غم میں ڈال دیتے ہیں لیکن ان کی قوت ایمانی جلد ان کو دفع کر دیتی ہے۔ (۱۰) حبّی فی اللہ منشی احمد جان صاحب مرحوم۔ اس وقت ایک نہایت غم سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ یہ پُردرد قصہ مجھے لکھنا پڑا۔ کہ اب یہ ہمارا پیارا دوست اس عالم میں موجود نہیں ہے اورخداوند کریم ورحیم نے بہشت بریں کی طرف بلا لیا۔ اِنّا لِلّٰہِ وَ اِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن و انا بفراقہ لمحزونون۔ حاجی صاحب مغفور و مرحوم ایک جماعت کثیر کے پیشوا تھے اور اُن کے مُریدوں میں آثار رُشد وسعادت و اتباع سُنّت نمایاں ہیں۔ اگرچہ حضرت موصوف اس عاجز کے شروع سلسلہؔ بیعت سے پہلے ہی وفات پا چکے لیکن یہ امراُن کے خوارق میں سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بیت اللہ کے قصد سے چند روز پہلے اِس عاجز کو ایک خط ایسے انکسار سے لکھا جس میں انہوں نے درحقیقت اپنے تئیں اپنے دل میں سلسلہ بیعت میں داخل کر لیا۔ چنانچہ انہوں نے اس میں سیرت صالحین پر اپنا توبہ کا اظہار کیا اور اپنی مغفرت کے لئے دعا چاہی اورلکھا کہ میں آپ کی للّہی ربط کے زیر سایہ اپنے تئیں سمجھتا ہوں اور پھر لکھا کہ میری زندگی کا